تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 73
خطا سے پوری طرح واقف ہے نہ ان کے خاندان سے اور چونکہ ایک مخلص دوست نے کراچی سے لکھا ہے که بچه بدری صاحب کے بارے میں جلدی اعلان ہونا چاہیئے تھا۔دیر ہو جانے کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔اس لئے میں عزیزم چو ہدری صاحب کا خط بادل نخواستہ اس لئے کہ چو ہدری صاحب اور ان کے والد صاحب مرحوم کی قربانیاں خلافت کے بارے میں ایسی ہیں کہ ان کی برات کا اعلان خواہ انہی کی فلم سے ہی ہو بھر پر گراں گزرتا تھا لیکن دشمن چونکہ اوچھے ہتھیاروں پر اتر آیا ہے اور جھوٹے اور بیچ میں تمیز کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں اس لئے میں چودھری صاحب کا الفضل میں شائع کرواتا ہوں جن لوگوں کے دل میں منافقوں کے جھوٹے پروپیگینڈے کی وجہ سے چه بدری صاحب کے بارے میں کوئی شک یا تر در پیدا ہوا تھا وہ استغفار کریں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں چودھری صاحب کا یہ شکوہ بجا ہے کہ کیوں نہ میں نے عبید وفاداری کے طلب کرتے ہی خود اپنی طرف سے لکھ دیا کہ میں چوہدری صاحب کے پوچھے بغیر ہی ان کی وفاداری کا اعلان کرتا ہوں بے شک ان کا حق یہی تھا کہ میں ان کی طرف سے ایسا اعلان کر دیتا لیکن منافق دشمن س پر پیر پگنڈا اس کرتا کہ دیکھو چوہدری صاحب اتنی دور میٹھے ہیں پھر بھی پیشخص جھوٹ بول کہ انکے منہ میں الفاظ ڈال رہا ہے اور ہم لوگ اس جھوٹ کا جواب دینے کی شکل میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔چوہدری صاحب دور بیٹے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ اس وقت میں دشمن سے ہمارا واسطہ پڑا ہے وہ کتنا جھوٹا ہے ہزاروں جس۔ہزار آدمیوں کی طرف سے وفاداری کا اعلان ہو رہا ہے مگر اخبار نوائے پاکستان لاہور یہی لکھے جارہا ہے کہ ہمیں معتبر ذرائع سے خبر ملی ہے کہ مرزا محمود کی جماعت زیادہ زیادہ متحد ہوتی جارہی ہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کا روٹ پیش کرے۔پس چوہدری صاحب کا اپنا خط چھینا ہی مناسب تھا۔اس خط سے جتنے دشمن کے دانت کھٹے ہوں گے میرے اعلان سے اتنے کھٹے نہ ہوتے۔بلکہ وہ یہ شور مچاتا کہ اپنے پاس سے بنا کہ جھوٹے اعلان کر ر ہے ہیں۔خاکسار مرز المحمود احمد خلیفة المسیح الثانی 2/44/4/04 با روزنامه المفضل ربوه ۲۶ اگست ۹۵۶ ر اصل