تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 72 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 72

اس تار کے بعد حضرت میاں صاحب نے اپنے ایک مکتوب میں عرض کیا : - => حضور ایک بے عرصہ سے حضرت خلیفہ اول کے اہل وعیال کے بعض افراد کی طرف سے ناگوار باتیں سنتے آئے ہیں۔اور پھر بھی حضور نے حضرت خلیفہ اول کی اعلیٰ درجہ کی نیکی اور اُن کے روحانی مقام کے پیش نظر ہمیشہ ان کے اہل وعیال سے چشم پوشی اور نرمی اور عفو کا سلوک کیا ہے۔جیسا کہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن ابی ابن سلول رأس المنافقین اور اشتد الماندین اور خطرناک سازشی دشمن کے ساتھ اس کے نیک اور صالح بیٹے کی وجہ سے ترقی اور عفو کا سلوک فرماتے تھے یہ چوہدری محمد ظفراله خان صاحب کا پہلا اخلاص نامه حضرت چو بوری امور راشد خان صاحب ان دنوں چوہدری ظفراللہ سیگ رہالینڈ میں فروکش تھے اور بین الاقوامی اور حضرت مصلح موعود کا پیغام عدالت انصاف میں نجی کے فرائض انجام دے رہے تھے جہاں الفضل کے پرچے فضائی ڈاک سے ہفتہ میں ایک بارہ پہنچتے تھے اسی طرح ہیگ سے خطوط پاکستان میں آنے پر بھی خاصہ وقت صرف ہوتا تھا۔اس مجبوری سے منافقین نے خوب فائدہ اٹھایا اور ان کے نام پر چھوٹ بولنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی دشمن کی طرف سے و ھو کہ دہی کی ہم پورے جوش و خروش سے جاری تھی کہ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جو ہندسی صنا موصوف کا اپنے قلم سے لکھا ہوا اخلاص نام پہنچ گیا میں نے ان لوگوں کی ساری خوشیاں خاک میں ما دیں۔حضرت مصلح موعود نے اس مکتوب کی نقل مندرجہ ذیل پیغام کی صورت میں شائع فرمائی۔برادران السلام علیکم ورحمه الله وبرکا تها ا۔فته پر دانه لو عزیزم چو ہدری ظفراللہ خاں صاحب پر اور ان کے خاندان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مگر چو ہدری صاحب کی خصوصاً اور ان کے خاندان کی عموماً خدمات ایسی شاندار ہیں کہ مجھے یا کسی اور کو اس بارے میں لکھنے کی ضرورت نہ ملی لیکن ہر احمدی چونکہ نہ چو دھری صاحب را مکتوب ۱۲ اگست ۱۹۵۶ در ریکار ڈ خلافت لائبر بر می ربوده)