تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 71 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 71

حضور عالی۔ہاتھ کی انگلی ماڈٹ ہونے کی وجہ سے فی الحال جلد لکھنا میرے لئے ممکن نہیں۔اس لئے اس استضار کے متعلق کہ اللہ رکھا اسے میرا تعلق تھا انشاء اللہ تعالیٰ اس معروضہ کے بعد ہی لاحظہ سے گزرے گا۔اس وقت صرف اتنا ہی عرض کرتا ہوں کہ میں حضرت (۔۔۔۔) کے خلاف کسی قسم کا وسوسہ رکھنے والوں اور ان کے ساتھیوں سے قطعاً بیزار ہوں۔اور ہمیشہ سے اسی پر کار بند بھی۔میرا عقیدہ ہے کہ حضور عالی خلیفہ اسیح بھی ہیں اور مثیل مسیح بھی اور مصلح موعود بھی۔اور اسلام کی ترقیاں الہاما حضور عالی سے وابستہ ہیں۔دل و جان حضور کے قدموں پہ نثار۔میں اسی عقیدہ پر ہوں اور اسی پرختم ہو جانے کا متمنی۔اللہ تعالیٰ حضور کو صحت وعافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور ہم سب احمد میں حضور کی فرمانبردار می اور اطاعت شعاری کی توفیق پائیں۔والسلام مع الاکرام خادم تقدیم خاک مختار احمد عفا الله شا و جهان پور ی داده ا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت مرز البشیراحمد صاحب کا تارا و مکتوب حضرت مصلح موعود کی خدمت میں مری کے پستہ پر حسب ذیل تار مھجوایا : - الفضل کی اشاعت مورخہ ۳۰ رتبہ لائی میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ ر کھا یا اس کے بعض ساتھیوں نے مجھے اس مضمون کے خطوط لکھے تھے۔جس میں مجھے آئندہ خلافت کی پیش کش کی گئی معنی۔یہ ایک خطر ناک افترا اور گندہ بہتان ہے۔مجھے کبھی ایسا کوئی خط نہیں ملا۔اگر کوئی شخص مجھے ایسا کوئی خط لکھنا تو اسے میری طرف سے منہ توڑ جواب ملتا۔میرا ہمیشہ سے یہ ایمان رہا ہے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ مد اسلامی خلافت کا مسیح نظریہ میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ خلیفہ کا نفرر گفتہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اور صرف وہی شخص خلیفہ بن سکتا ہے جسے خدا اس منصب کیلئے پسند فرمائے۔میں اس ناپاک انتہام سے ہاتھ دھوتا ہوں۔خاکسار مرزا بشیر احمد : سله الفضل صور اگست ۱۹۵۶ ۶ صل و سه الفضل دراگست ۹۵۶ار مسل