تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 70
اس طرح خاندان حضرت خلیفہ اول کی ایک شاخ دوبارہ شجر خلافت سے وابستہ ہو کر پھر سے ہری بھری ہو گئی۔فالحمد للہ علی احسانہ اس معرکہ حق و باطل میں منافقین نظامِ بزرگان سلسلہ کو فتنہ میں تو کرنیکی ناپاک کوشش خلافت کو تہ و بالا کرنے کے لئے طلاق وانسانیت کے منافی نہایت گھٹیا ہتھکنڈوں پر اُتر آئے۔ملک میں جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانا ان کا عام معمول اور دورخی پالیسی اختیار کرنا ان کا شیوہ تھا۔ایک طرف وہ حضرت مصلح موعود کو خطوط کے ذریعہ و ناداری کا یقین دلاتے۔دوسری طرف خلافت کے بدترین دشمنوں سے مل کر منصوبے باندھتے تھے۔اللہ رکھا اور اس کے ساتھیوں نے بزرگان سلسلہ میں سے بعض نہایت اہم شخصیات سے اپنی ہمدردیاں ظاہر کرتے ہوئے انہیں بھی اس فتنہ میں ملوث کرنے کی ناپاک کوشش کی میں میں انہیں پہلے قدم پر ہی نا کامی اور نامرادی کا منہ دیکھنا پڑا۔اور ان کی کذب بیانیوں کا پردہ چاک ہو گیا۔ان خدا نا تریس لوگوں نے جن عشاقی خلافت کا نام استعمال کیا ان میں حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہا پوری اور حضرت چو پرسی محمد ظفر اللہ خاں صاحب جیسے بزرگ صحابہ اور حضرت ملک عبدالرحمن صاحب خادم جیسے ممتاز عالم دین بھی شامل تھے۔ان چاروں بزرگوں نے عدیم النظیر غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے ادلین فرصت میں حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں خلافت سے والہانہ تعلق سے لبریز اخلاص نامے بھیجے۔چنانچہ حضرت سید حافظ مختار احمد شاہ صاحب حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب اینجا پیوری کا مکتوب گرامی شار جہانپوری نے ۲۶ جولائی تارا کو حسب ہیم القرار من الرحیم ہو وہامل بلڈنگ لاہور ۲۶۶۵۷ ذیل مکتوب حضرت خلیفہ ثانی کے حضور لکھا :- حمده ونصلی علی رسوله الكريم سیدی و مطاعی مرشدی و مولائی۔ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزبية السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ