تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 69 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 69

49 جب چل گیا اور ایک بڑا اختبر بن گیا تومیں نے مفت بغیر معاوضہ کے وہ آئین کو تحفہ دیدیا پس چونکہ دہ میری ملکیت تھا لازما یورپ سے واپسی پر اس کے عملہ کو میری تصویر شائع کرنے کا خیال پیدا ہوا اور حضرت خلیفہ اول کی تصویر شائع کرنے کا خیال پیدا نہ ہوا۔کیونکہ حضرت خلیفہ اول نے اس پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا تھا۔آپ سے ملنے میں مجھے کوئی عذر نہیں آپ کے دادا اور نانا دونوں سے میرے تعلقات تھے لیکن اس جواب کو پڑھ کہ اگر آپ سمجھیں کہ آپ کا ملنا مفید ہو سکتا ہے تو بے شک میں۔مرزا الحم واحد ۳/۸/۵۶ اس مکتوب پر انہوں نے حضور کی خدمت میں نہایت ادب وعقیدت کے ساتھ شکریہ کا خطہ لکھا اور عرض کیا " اس وقت میں خود ایک جذباتی ہیجان میں مبتلا ہوں اور ایک کرب اور اضطرار میں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ آپ سے مل کر میں آپ کو کیا کہوں میں گبھراہٹ اور بے چینی میں ربوہ آیا تھا اور اسی اضطرار میں واپس جا رہا ہوں ایسے چنانچہ اس کے بعد وہ لاہور واپس چلے گئے۔اگست کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بذریعہ خط انہیں یہ نصیحت فرمائی کہ آپ حضرت خلیفہ اول کے ہوتے ہیں جن کے ساتھ ساری جماعت کو طبعا عقیدت اور محبت ہے آپ ان کے مسلک کو نہ چھوڑیں اور خلافت کی رستی کے ساتھ خلوص نیت کے ساتھ چھے نہ ہیں اور خدا کے حضور پاک دل سے دعا بھی کریں تا وہ آپ کی ہدایت کے لئے روشنی پیدا کر دے سے میاں عبدالواسع صاحب نے اس نصیحت آمیز چھٹی سے متاثر ہو کر حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جو اخلاص نامہ ارسال کیا اس میں لکھا کہ : در بین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام دعا دی پر ایمان رکھتا ہوں۔خلافت کی INSTITUTION پر یقین رکھتا ہوں اور ر دیانتداری کے ساتھ) آپ کی بیعت میں شامل ہوں بیعت پر اس لئے شرح صدر ہے کہ جو نیک کام آپ بتلائیں گے، انہیں بجا لانے پر شرح صدر ہے رات ۲-۳-۱ ریکارڈ خلافت لا بٹر برمی ربوہ نہ