تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 68
۶۸ جن کو عنقریب شائع کیا جائے گا۔جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مولوی عبد المنان صاحب نے ان کو کہا کہ خلافت کا ڈنڈا میرے ہاتھ میں آنے دو پھر یک اس خاندان کو سیدھا کر دوں گا۔پھر میں خود حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ آپ کی دادی نے مجھ سے کہا تھا کہ پیغامی دوند میرے پاس آیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ اگر عبد الحی و خلیفہ بنا دیا جاتا تو ہم مان لیتے پیچی در کہاں سے آیا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ کو کوئی عزت ملتی ہے تو شوق سے لے لیں میں نے آپ کو بیاں قید کر کے تو نہیں رکھا ہو ا۔آپ کے نانا نے مجھے چھٹی لکھی اور آپ کی والدہ کی بنگالی چھٹی اس میں ڈال کر مجھے بھیجی جس کا خلاصہ انہوں نے یہ لکھا کہ آپ نے تو اپنی طرف سے میرے ساتھ نیکی کی تھی مگر آپ نے میرا بیڑا غرق کہ دیا ہے۔اس گھر میں ہر وقت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برائیاں اور خلافت سے بغارت کی باتیں ہوتی ہیں۔خان بہادر ابوالہاشم خان نے لکھا کہ میں نے تو دین میں ترقی کے لئے یہ رشتہ ہیں تھا مگر افسوس کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا۔میری اور دوسرے دوستوں کی گواہیاں POSITIVE ہیں اور آپ کی گواہی NEGATIVE اب بتایئے کہ میں آپ کی دادی کی گواہی کو مانوں آپ کے نانا کی گواہی کو مانوں جو POSITIVE متھیں یا NEGATIVE گواہی مانوں۔آپ تعلیم یافتہ ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ POSITIVE کے مقابلہ میں NEGATIVE مانی نہیں جاتی۔کل ہی ایک پر وفیسر کی گواہی ملی ہے کہ چند لوگوں کی مجلس میں مجھے جانے کا موقع ملا وہ یہ باتیں کرتے تھے کہ مسیح موعود کا تو ذکر الفضل میں بار بار ہوتا ہے خلیفہ اول کا نہیں ہوتا اور خلیفہ ثانی کا فوٹو چھپا اور خلیفہ اول کا نو ٹو نہیں چھپا۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے مامویہ تھے اور حضرت خلیفہ اول ان کے ادنی خادم تھے دونوں میں مقابلہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔سارے پورپ اور امریکہ میں با حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی یا ان کی تعلیم کا ذکر ہوتا ہے نکسی جگہ یہ خلیفہ اول کے دعوی کا ذکر ہوتا ہے نہ ان کی تعلیم کا نہیں الفضل جو کچھ کر رہا ہے وہی کہ رہا ہے جس کا خدا تعالیٰ نے فیصلہ کیا ہے اور مخالف دنیا بھی جس طرف متوجہ ہے۔باقی رہی میری تصویر تو اس کی دلیل موجود تھی میں خطر ناک بیماری کے بعد یورپ سے واپس آیا تھا اگر حضرت خلیفہ اول بھی دوبارہ زندہ ہو کر آجاتے تو ان کی تصویر مجھ سے اونچی شائع کی جاتی۔دوسرے یہ کہ الفضل میرے ذاتی روپے سے جاری ہوا اور سنہ تک میں نے اس کو چلا کے اس کی خریداری بڑھائی