تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 779
۷۶۴ میں نہیں لایا جاتا۔اخر اگر دوسرے نشتی لوگوں میں سے کئی تجوریاں کرتے ڈاکے مارتے جھوٹ بولتے حرام کھاتے بیویوں سے بدسلوکی کرتے اور دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں تو احمدیہ جماعت کے افراد کیوں ان باتوں میں ملوث نہیں ہوتے یہ امر واضح کر کے ہمیشہ احمدیت کی مخالفت کرتے والوں سے کہتا ہوں کہ اگر تم احمدی نہیں ہوتا چاہتے تونہ ہو مگر تمہیں چاہیے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں کیونکہ تمہیں ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ عملاً تمہاری مدد ہے اور وہ ہمارے لوگوں کی عملی اصلاح کہ رہے ہیں انسان کا انجام بخیر اس کے اعمال نے کرتا ہے مسلمان کے اس اسلام کا کیا فائدہ ہجو دن رات احمدیوں کی مخالف کرتا ہے لیکن اعمال اس کے کافروں سے بھی بدتر ہوں ہمارا مخالفت کرتا تب ہی نہیں فائدہ دے سکتا ہے جب کہ ہم اپنے آپ کو اپنے اعمال اور اخلاق کے لحاظ سے بھی احمدیوں سے بالاتر ثابت کر سکیں مگر معاملہ بالکل اس کے بر عکس ہے اور اخلاقی لحاظ سے ہم میں اور اُن میں بہت فرق ہے یکی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان مبلغین کا خود محمد و معاون ہو اور جس مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں نہیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی حتی المقدور اس فرم کو سجانا سکیں تاکہ مہارا ملک اس اسلامی تعلیم و تہذیب اور ثقافت سے مالا مال ہو اور دنیا میں بہترین رول ادا کر سکے مجھے ہو" میں آپ کا کام دیکھ کہ بہت خوشی ہوئی ہے میری باتیں خواہ کسی کو چھی لگیں یا بہری میں حقیقت کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں اپنے واپسی سے قبل آپ نے سکول کی لاگ یک اور مشن کی وزیٹر نہ ٹیک میں مندرجہ ذیل ریمارکس لکھے :- میں نے احمد یہ سکول دیکھا۔جس میں بچوں کو عمل یعنی ہاتھ سے کام کرتے ہوئے بہا یا تو پروٹیکٹوریٹ کے سکولوں کی ایک بہترین نشانی ہے طلبہ کے ساتھ بہت اچھا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور اساتذہ بمع جنرل سپرنٹنڈنٹ اور مہیڈ ماسٹر اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بصورت حسن انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں مجھے اس اسکول کو دیکھ کر یقین ہوگیا ہے کہ یہی وہ ایک مسلم اسکول ہے جس پہ آئندہ اسلامی تہذیب اور ثقافت کا مرکز ہونے کی امید کی جا سکتی ہے (کانڈے بورے منسٹر آف در کس لیے به روز نامه الفضل نه بوه ۱۹ جنوری ۶۱۹۵۸ مترم ه روز نام الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۵۸ ء ما