تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 769
۷۵۴ مطالعہ کر نے کی تلقین کی۔اسی طرح کفر د ڈوا نامی ایک شہر میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحیح رننگ میں احمد می مسلمان ہیں۔اور احمد می جس رنگ میں اسلام کو پیش کرتے ہیں وہ ہمارے لیے قابل قبول اور مفید ہے۔اس کے علاوہ اگر کمیونٹی سنٹر میں ہمارہ سے ایک جلسہ کی صدارت گولڈ کوسٹ کی مجلس دستور سانہ کے صدر سرایمنیوٹیل کیسٹ نے کی۔اور جلسہ کے اختتام کے بعد صدارتی ریمارکس میں انہوں نے احمدیہ مشن کے کام اور احمدیت کی تعریف کرتے ہوئے اسے اپنے ملک وملت کے لیے مفید قرار دیا۔نیز احمد یہ مشن کو تحمل، امن اور داداری کا مکمل نمونہ قرار دیتے ہوئے دوسرے مشنوں کو بھی اس کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کی۔پس گولڈ کوسٹ کی آزادی اور خود مختار میں منصف اور حق پسند دنیا کے لیے عموماً اور احمدیہ جماعت کے لیے خاص طور پر خوشی اور مسرت کا باعث ہے ، " - غانا کی یوم آزادی کی تقریبات پر ہر رائل ہائی نس ڈچیز ان کینٹ ملکہ انگلستان کے ذاتی نمائندہ کی حیثیت میں شامل ہوئیں۔احد یہ مشن نانا کے مبلغ انچار ج مولوی ناذیہ احمد صاحب منتشر نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو انگریزی ترجمہ القرآن کی ایک جلد بطور تحفہ ارسال کی ڈچیز آن کینٹ نے اس بیش بہا تحفہ کے موصول ہونے پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔اور اپنے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو ہدایت کی کہ وہ ان کی طرف سے شکریہ ادا کریں چنانچہ انہوں نے انجلہ و احمد یہ مشن کے نام لکھا :۔( ترجمہ )گورنمنٹ ہارس۔اگرا۔هر مارچ ۶۱۹۵۷ جناب عالی ! ڈر چیز آف کینٹ نے مجھے ہدایت کی ہے کہ آپ نے ان را نوازش ہر رائل ہائی نس کی خدمت میں قرآن مجید کا ایک نسخہ جو بطور تحفہ بھیجا ہے۔اس پر آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کردن مر پائی انس اس جذبے کی بہت قدر کرتی ہیں۔آپ کا یہ تحفہ انہوں نے بہت خوشی سے قبول کیا ہے۔آپ کا مخلص : دستخط ) پرائیویٹ سیکریٹری (ترجمہ) ر ان تقریبات میں دیگر کئی ملکوں کے نمائندہ دنور نے شرکت کی جنہیں مولوی نذیر احمد مبشر نے انگریزی المفضل ، مارج ١٩٥٠ دم