تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 768 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 768

اختتامی اجلاس میں مولوی فضل الہی صاحب انوری نے تحریک جدید کے موضوع پر پہلے عربی پھر انگریزی نہ بان میں خطاب کیا لیے ۰۲ ۱۸۲۲ء میں پیر گیزوں نے گولڈ کوسٹ میں ہی ہو۔بی بستی بسال ۱۸۷۴ء میں برطانوی شناسی آزادی وجود میں آئی جس کے بعد یہ ملک ایک لمبے عرصہ تک برطانوی استعمار کی زنجیروں میں جکڑا رہا اور بالآخر ڈاکٹر کوائی کرومہ (DR : NKRUMAH) ان کی پارٹی کی برسوں کی زبر دست آئینی و سیا سی جلد مہد سے آزاد ہوا ہے اور خود مختاری حاصل کر کے نانا کے نام سے دنیا کی آزا د قوموں کی صف میں داخل ہو گیا۔جس سے دنیا ئے احمدیت میں بھی خوشی اور مسرت کی نئی لہر دوڑ گئی۔مولوی عبدالقدیر صاحب شاہد سابق مبلغ گولڈ کوسٹ نے اس مو قع پر لکھا کہ : مغربی افریقہ میں چارہ بر طانوی مقبوضات میں سے گولڈ کوسٹ ایسا ملک ہے جس کے باشندوں نے سب سے زیادہ تعداد میں اسیروں کے رستگار حضرت خلیفہ المسیح الثانی مصلح موعود ایدہ اللہ الودود کے ارسال کردہ مبلغین کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے احمدیت کو قبول کیا اور خدا تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ اس نے افریقہ کے جنوب اور مغرب میں سب سے پہلے آزادی دنخود مختار ی کی نعمت سے نواز نے کے لیے گولڈ کوسٹ (حال غانا) کوہی چنا۔گولڈ کوسٹ کی گل آبادی پنتالیس لاکھ ہے اور وہاں اب تک تین ہزار سے زائد افراد سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ به تعداد روز بر ورنہ اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ عیسائیوں میں تشویش اور مایوسی کے اثرات واضح طور پر نمایاں ہور ہے ہیں۔جن کا اظہار وہ اپنی تقریر وں اور تحریروں میں کرتے رہتے ہیں۔پھر حکومت کے عمائدین اور اونچے طبقہ کے لوگوں میں بھی احمدیت کا نفوظ بڑھ رہا ہے چنانچہ وزیر اعظم گوا می کرد ما نے دتحریک آزادی کو کامیابی سے چلانے کا سہرا جن کے سر ہے) ایک دفعہ کماسی میں ہمارے احمدیہ سیکنڈری سکول میں نظریہ کرتے ہوئے احمدیت کی تعلیم کو سراہا اور طلباء کو اسلام کا له الفضل ، ار فروری 1920 ء م : 1 65-59 : FREEDOM مولف ایم برا گنگی ( M۔BRAGINSKY) - طبع دوم AFRICA WINS Progress PUBLISHERS, Moscow