تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 755 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 755

۷۴۰ نے جو دلائل بیان فرمائے ہیں ہمارے پاس ان کا فی الحقیقت کوئی جواب نہیں۔پندرہ روزہ لیکچروں میں سب سے زیادہ قابل ذکر ایک مباحثہ تھا جو اسلام اور غلامی کے موضوع ہر ہوا۔سب سے پہلے تمام حاضرین کو اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی گئی اس طرح تمام مخالف اور موافق پہلوؤں پر سیر حاصل بحث ہوئی۔پھر اگلے اجلاس میں میر عبدالسلام نے اسی موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ تک ایک جامع لیکچر دیا۔۲۰ مارچ ۱۹۵۷ء کو ٹیلیویژن کے ایک پروگرام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے جس پر مولود احمد خاں صاحب اور ایک احمدی ڈاکٹر حمد نسیم صاحب نے احتجاج کیا اور متعلقہ ڈائر یکٹر کو تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مذہبی رہنما ہیں۔حضور کی شان کیخلاف نازیبا الفاظ کے استعمال سے کہ دڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اس پر ڈائر یکٹر نے معذرت کی اور یقین دلایا کہ ایسے الفاظ کا اعادہ نہیں ہوگا۔لنڈن کے ایک کلاب کے پچاس نمبر بیت الفضل میں آئے جن سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے پون گھنٹہ تک خطاب فرمایا جس میں اسلام کا دیگر مذاہب عالم سے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام خدا کی وحدانیت کا قائل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء کو سچے اور خدا کے رسول تسلیم کرتا ہے۔من کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق نائیجیرین طلبہ کے ایک گروپ سے موادی مبارک احمد صاحب ساقی نے تین گھنٹہ تک تبادلہ خیالات کیا یہ ھالینڈ مشن اس سال کے وسط میں نائیجیریا کے ممتاز سیاسی لیڈر اور وزیہ آنریل مالم حاجی ابو بكبر تفاوا بلیوا ( MALAM ABUBAKR احمدیہ مشن ہاؤس ہیگ میں تشریف لائے اور اس روحانی و دینی مرکزہ کو دیکھ کر مسرت کا اظہار فرمایا۔اس موقع پر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ان سے پون گھنٹے تک مختلف امور پر تبادلہ خیالات فرمایا اور مشن کی طرف سے انگریزی ترجمہ قرآن عطا فرمایا۔جسے انہوں نے قدر دانی کے گہرے جذبات را الفضل ۸ در جون ۹۵۷اد مستم (خلاصہ رپورٹ مرسلہ مولوی مبارک احمد ساقی کی