تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 750
۷۳۵ گھنٹوں میں کر دکھایا ہے۔مزید کہا دراصل رضا کارانہ خدمت کا جذبہ ان سے یہ سب کچھ کروارہا ہے۔آپ نے بتایا کہ گزشتہ رات سے شگان لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہا تھا اور کسی سمت سے انداد کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔میں نے دریا کے قریب پہاڑیوں پر پتھر نکالنے والے پٹھانوں کو تین تین روپے فی مزدور کی پیشکش بھی کی لیکن انہوں نے پیشگی اجرت کا بہانہ کر کے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لینے سے انکار کر دیا۔ایسے نازک موقع پر انہوں نے جس بڑی ذہنیت کا مظاہرہ کیا اس سے مجھے بہت افسوس ہوا۔اگر یہ بوہ والوں کی طرف سے بر وقت امداد نہ ملتی تو اب تک پل کو بہت نقصان پہنچ چکا ہوتا۔شام تک مسلسل پھر ڈھونے کے باعث خدام وانصار تھک کر تیوز ہو چکے تھے کہ ریلوے کے آئی۔او۔ڈبلیو صاحب نے درخواست کی کہ بہنیں ایسے با ہمت نوجوان درکار ہیں جو رات کو بھی مچی پر موجود رہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ ریلوے کے ہیں مزدوروں کے ساتھ مل کہ جو پہلے سے وہاں موجود تھے مزید پھر ڈال کر یگان کو بڑھنے نہ دیں۔اس پر قائد صاحب یوہ صاحبزادہ مرزار فیع احمد صاحب نے ایسے با ہمت مدام کو دعوت خدمت دی چنانچہ خدام نے بڑے اشتیاق سے آگے بڑھ بڑھ کر اس خدمت کے لیے اپنے نام لکھوانے شروع کردیئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بیل نام آگئے میں پر باقی سب احباب کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی یہ رانچی میں جلسہ سیرت المبنی او در ستمبر ۱۹۵۷ کومور بہار بھارت کے مشہور مقام را نچی میں پہلاک لائبریر می مال میں زیر صدارت با بد دیگمبر رام (چهترین رانچی میونسپلٹی) سیرت النبی کا جلسہ منعقد ہوا۔مقررین کے اسماء یہ ہیں۔جناب حبیب اللہ صاحب پر وفیسر لاء کالج رانچی۔مولانا ابو البيان واعظ بھاگلپوری - جناب محمد عباس صاحب وکیل نمازدی۔مسٹر ہری کرشن لال ایم ایل سی بہار ( آپ نے اپنی نظریہ میں حضور اکرم کے بارے میں کہا اور انسانی زندگی کے کوئی پہلو ایسے نہیں جن کے لیے آپ کی تعلیم مکمل نہ ہو۔آپ کی تعریف کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانا ہے سید محی الدین احمد صاحب چیف ایڈیٹر اخبار دی سینٹل رانچی۔بابو دیگمبر رام نے اپنی صدارتی تقریر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ سے رونما ہونے رائے عالمی انقلاب کا تذکرہ کرتے له الفضل ۳۰ اگست ۱۹۴۷ء ص ۱ - ۸