تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 749 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 749

۷۳۴ پر سخت نفرت اور دکھ کا اظہاہ کرتے ہیں ہلے ۲۸ را گست ۱۹۵۷ء کو دریائے چناب میں سیلاب کے بڑھتے ہوئے حمل ایل ربوہ کا مثالی وقار میں زور کی وجہ سے میوہ کے قریب دریائے چناب پر ریو سے گل ربوہ کے حفاظتی پہنتے ہیں ایک سوفٹ لمباشگان پڑ گیا اور پل کے تباہ ہونے کا فوری خطرہ پیدا ہو گیا۔چاروں طرف سے راستے مسدود ہونے کی وجہ سے ریلوے حکام بالکل بے لیس ہو گئے اور فوری امداد بہم پہنچانے سے قاصر تھے اس لیے ریلوے انجینئر صاحب لائلپور (فیصل آباد) نے بذریعہ تارہ ناظر اعلى صدر انجمن احمدیہ حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب سے درخواست کی کہ کم از کم ایک سو مزدور فور پل پر بھجوانے کا انتظام فرمائیں۔نمائندہ روز نامہ الفضل کی اطلاع کے مطابق یہ اطلاع ملتے ہی ناظر امور عامہ صاحبزادہ مرزا داؤ د احمد صاحب کی زیر نگرانی لوکل انجین احمدیہ، مجلس خدام الاحمدیہ یوہ اور علی انصار اللہ یہ لوہ کے امدادی دستے پوری طرح حرکت میں آگئے۔نیز صدر انجین احمدیہ اور تحریک جدید کے جملہ وفاتہ بند کر دیئے گئے اور دوصد پچاس افراد جن میں کالج کے پروفیسر صاحبان دفاتر کے افسران ، صیفہ جات کے عملے کے دوسرے ارکان اور ربوہ کے نوجوان دوکاندار العرض پر مشعر اور حروفہ کے لوگ شامل تھے۔وہ سب شدید دھوپ اور گرمی میں در میل کی مسافت پیدل طے کر کے دریائے چناب کے پل پر پہنچ گئے اور وہاں پر انہوں نے جناب ایم۔ایس شرکت صاحب آئی۔او ڈبلیور انسپکٹر آن در کسی کی نہ یہ ہدایت دریا کے دوسرے کنارے سے بھاری بھاری پتھر لا کر شگات میں ڈالنے شروع کر دیئے اور نہایت محنت اور جانفشانی سے کام کر کے وہ قریباً آٹھ ہزار مکعب فٹ پتھر شگان میں بھر کر فوری خطرہ بڑی حد تک دور کر دیا ان اڑھائی صد احباب کے جوش و خروش کے ساتھ کام کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ ہر شخص کس طرح بھاری پتھر ا ٹھا کر لیے جا رھا ہے۔خدام کے کام اور ان کے جوش وجذبہ سے متاثر ہو کر آئی۔او۔ڈیلیو صاحب نے نمائندہ الفضل سے کہا خود ریلوے کے مزدور ہیں روز میں جو کام کرتے وہ ان با بہت نوجوانوں نے چند شد اخبار بدر یکم اگست ، ۹۵ار ما : ایضاً الفضل ، راگست، ۱۹۵د مرا