تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 745 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 745

مہر بانی میری طرف سے دلی تعزیت قبول کیجیئے۔اور میرے یہ جزوات پولیس علی خان اور پرنس صدر الدین تک پہنچا کہ سبھی ممنون فرمائیں۔مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیه ۱۳ له ناظر صاحب امور خارجہ نے یہ تار دیا کہ : - جماعت احمدیہ اور حضرت امام جماعت احمدیہ کو آپ کے قابل تعظیم خاوند کی وفات سے گہرا صدمہ ہوا ہے۔پھر آغا خاں مرحوم مسلمانوں کے خیر خواہ اعلیٰ ذاتی اوصاف کے حامل اور بے نظیر لیڈر تھے۔ان کی وفات پاکستان اور تمام عالم اسلام کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ہماری طرف سے دلی ہمدردی قبول فرما ہیے اور پرنس علی اور پرنس صدر الدین کو بھی ہمارا تعزیتی پیغام پہنچا دیجیے دینے پرنس کریم آغا خان نے جوابی پیغام میں کہا WAS Touched BY DEEPLY KIND MESSAGE of AHMADIYYA COMMUNITY" یعنی جماعت احمدیہ کے ہمدردانہ پیغام نے میرے دل پر نہایت گہرا اثر کیا ہے کہیے ناظر صاحب امور عامہ نے سر آغا خان کے جانشین پرنس کریم آغاخان کی خدمت میں حسب ذیل تہنیتی تار دیا۔جماعت احمدیہ اور حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ کی جماعت اسماعیلیہ کے انچاسویں امام مقرر ہونے اور آغا خاں چہارم کے خطاب سے سرفرانہ ہونے کی تقریب پر دلی مبارکباد قبول کیجیے ہماری دعا ہے کہ خدا ئے قادر و قیوم آپ کی راہ نمائی فرمائے آچکے بطل احمدیت اور عالمی عدالت انصاف کے حج اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ حضرت پتو بدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے سراً نجا خان کی خدمات کا ذکر کر تے ہوئے فرمایا آغا خاں نے عالم اسلام کی فلاح و بہبود کے لیے جو نہ بہ دست خدمات انجام دیں اس کے لیے دنیا بھر کے مسلمان مرحوم کے شکر گزار رہے ہیں۔وہ ایک بہت بڑی شخصیت تھے۔انہوں نے ہر نیک مقصد اور ہر ضرورت مند کی فراخدلانہ امداد کی ان کا انتقال ایک ایسے دور کا خاتمہ ہے جس میں آغا خان ن الفضل به ارجولائی ۱۹۵۷ صلہ کے الفضل 19 جولائی ، ۱۹۵ ء مست کالم آخر له الفضل در راگست ۱۹۵۷ء طة الفضل 19 جولائی ۱۹۵۷ء صلا