تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 61 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 61

- اور حضور نے عاجزہ پر اظہار ناراضگی بھی فرمایا ہے جس سے صدمہ ہوا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اس سلسلہ میں ایک میٹی بذریعہ عام ڈاک ندمت عالی میں بھیج چکا ہوں معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر اس کی نقل بذریعہ رہبری بھیج رہا ہوں۔اس سلسلہ میں ایک صورت یہ بھی ہو سکتی تھی کہ میں خاموش ہو جاتا اور اس معاملہ کو خدا تعالے کے سپرد کر دیا۔مگر چونکہ آپ میرے پیار سے امام اور آتا ہیں اور مجھے آپ سے بچپن سے دلی آتش رہا ہے یقین رکھتا ہوں کہ آپ بھی اس تعلق کو جانتے ہیں۔اس لئے اللہ رکھا کے نام اس خط کی حقیقت خدمت عالی میں لکھتا ہوں۔اللہ رکھا کے نام یہ خط غالباً حضرت اماں جی کی تعربیت کے جواب میں لکھا گیا ہے۔اللہ رکھا حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی زندگی میں قادیان آیا تھا اور دار الشیوخ میں ملازم تھا بعض دفعہ اماں جی کے گھر کا کام بھی کرتا اور اماں جی اس کو روٹی بھی دیا کرتی تھیں۔جس طرح سب احمدیوں کے ساتھ ان کا بیٹوں جیسا سلوک تھا، اللہ رکھا کے ساتھ بھی تھا۔یہ کبھی بیمار ہوتا تو میں اس کا علاج بھی کرتا۔اگر آپ الفضل میں مضمون لکھنے سے پہلے اور میرا ذکر کرنے سے پہلے مجھ سے دریافت کر لیتے تو شاید اس قدر غلط فہمی پیدا نہ ہوتی۔میرے علم میں اللہ رکھا کو قادیان میں حماقتوں کی معافی مل چکی تھی۔اس لئے تعزیت کے خط کا جواب دیتے وقت قطعاً میرے ذہن میں نہیں آسکتا تھا کہ اس کو خط کا جواب نہ کھنا چاہیئے ماشا و کلا میرے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ نہیں آیا کہ میں کسی ایسے شخص کو خط لکھ رہا ہوں جو حضور کا بدخواہ ہے۔اللہ رکھا کے متعلق کو ہاٹ کی جماعت نے جو بات کہی ہے وہ تو بہت بعد کی ہے نہ میں نے یہ بات اس سے گنی نہ مجھے علم تھا کہ آپ کے خیالات اس کے متعلق یہ ہیں۔میں سمجھتا ہوں اللہ ریکھانے میرے خط کا ناجائز استعمال کیا ہے۔" ہمارا تو فرض ہے کہ آپ کو خوش رکھیں خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ آپ بیمار بھی ہیں۔ایسے حالات میں نادانستہ میرا ایک خط آپ کے لئے تکلیف کا باعث بنا جس سے طبعا مجھے بھی اذیت پہنچی۔میں نے پچپن میں فیصلہ کیا تھا کہ اپنی قسمت آپ کے ساتھ وابستہ رکھوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے علاوہ حضرت خلیفہ اول کا منشاء بھی یہ تھا کہ ان کے بعد آپ جماعت کے امام ہوں۔