تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 740
۷۲۵ ۲۰ جنوری ۱۹۵۷ء کو لجنہ اماءاللہ کلکتہ کے ایک چار رکنی گورنر مغربی بنگال کو تحفہ قر آن کریم | وند نے زیب النساء بیگم صاحبہ سیکرٹری لجنہ اماءاللہ کانہ کی قیادت میں گورز مغربی بنگال ہز ایکسی لینی شرکتی پر مجانا نیند سے راج بھون میں ملاقات کی اور ان کی خدمت میں قرآن مجید اور کتاب " احمدیت کے انگریزی تراجم تحفہ پیش کیسے نیز ایک سپاسنامہ کے ذریعہ جماعت احمدیہ ، اس کے عقائدہ، اعراض و مقاصد اور عالمگیر تبلیغی خدمات پر روشنی ڈالی گور نر صاحبہ نے سپاسنامہ سے متعلق متعد د سوالات کیے جن کے جوابات سیکر ڈی لجنہ اماءاللہ نے دیئے۔ممبرات کو برقعہ پوش دیکھ کہ پردہ کا بھی ذکر آیا۔جماعت کا ذکر انہوں نے تعریفی الفاظ میں کیا۔اور کہا کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب کے ذریعہ جماعت کا تھوڑا بہت علم ہے۔انہوں نے احمدی مستورات کی تعداد اور تعلیمی کوائف دریافت کیے اور نصف گھنٹہ تک نہایت محبت و پیار اور سکون واطمینان کے ساتھ گفتگو کی نیش کلکتہ میں جلسہ میخوان مذاهب جماعت احمدیہ کلکتہ کے زیر اہتمام سرما سچ ۱۹۵۷ء کو جلسه پیشوایان مذاہب منعقد ہوا۔جلسہ کی اطلاع کے لیے اردو ، بنگلہ اور انگریزی میں تین ہزار پوسٹر کلکتہ کے مختلف علاقوں میں چسپاں کیسے گئے اور ہزارہ ہنڈیں تقسیم کیے گئے۔اخبارات میں بھی اعلانات کیے گئے۔انگریزی میں ایک ٹریکٹے ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔جلسہ کی ابتدائی کارروائی ڈاکٹر کالی داس صاحب ناگ۔ایم۔ا سے پی۔ایچ۔ڈی کی صدارت میں شروع ہوئی۔مولوی پیر احمد صاحب مبلغ دہلی نے افتتاحی تقریر میں جلسہ کی غرض وغایت پر روشنی ڈالی۔انچار ج منشی شمس الدین صاحب امیر جماعت کلکتہ نے حضرت مصلح موعود اور سر رادھا کرشمن نائب صدر جمہوریہ ہند کے پیغامات سنائے بعد ازاں صدر صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں اس نوع کے طلبوں پر خوشی کا اظہار کیا اور جماعت احمدیہ کی صلح گل پالیسی کو سراہا اور فرمایا آج کا یہ اجتماع مختلف مذاہب کے نمائندوں ہی کا اجتماع نہیں بلکہ ایک روحانی سازہ بھی ہے جس میں سے مختلف نیک آوازیں نکل رہی ہیں۔اس جلسہ له بدره ۲ مارچ ۱۹۵۷ و مه به سه دنات ۶۱۹۷۵