تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 739
۵۲۴ (۳) ملک محمد طفیل (۱۳) خواجہ علی الکریم (2) دولت احمد خال خادم (7) مولوی غلام احمد مربی انچار ج شه حکومت بھارت کی طرف سے کشمیر کو بھارت میں مدغم ربوہ میں ایک احتجاجی جلسہ کرنے کے اعلان پر ۲۳ جنوری ۷ ۱۹۱۵ء کو راہ میں ہم احتجاج یوم منایا گیا۔اس روز ربوہ میں صدر انجمن اور تحریک جدید کے جملہ دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تعطیل عام رہی تمام دکانیں اور تجارتی کاروبار بندر ہے اس روز بہت مبارک میں ایک احتجاجی جلسہ مولانا جلال الدین صاحب شمس کی زیر صدارت منعقد ہوا جن میں آپ کے علاوہ میاں غلام محمد صاحب اختر ناظر اعلی ثانی ، مولانا ابو العطاء صاحب قائد عمومی انصار الله مرکز یہ مولوی ابوالمیز نور الحق صاحب قائد مجلس خدام الاحمدیہ پوه ، چوہدری ظہور احمد صاحب سیکرٹری ری پبلکن پارٹی ربوہ نے خطاب کیا اور قرار داد کے ذریعہ ، اقوام متحدہ حکومت پاکستان اور عوام کو کشمیر کی آزادی کی طرف توجہ دلائی نیز یقین دلایا کہ اس سلسلہ میں اگر حکومت پاکستان کوئی قدم اٹھائے تو جماعت احمدیہ ہر لکن قربان کے لیے تیار ہے لیے اسی روز یعنی ۶ اور جنوری ۱۹۵۷ء کو جناب صدر الدین سیجی پونتو انڈو نیشین قونصل قادیان میں | صاحب انڈو نیشین تو فصل بھٹی معہ اہلیہ زیارت قادیان دار الامان " کے لیے تشریف لے گئے۔صدر انجمن احمدیہ کے ناظر صاحبان نے اسٹیشن پر ان کا پر جوش استقبال کیا اور احمدیہ چوک میں حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب رقائمقام امیر مقامی و ناظر اعلیٰ نے آپ کو اخلاق سهلا و مرحبا کہا۔مرکز احمدیت کی برکات و فیوض سے متمتع ہونے کے بعد یکم مارچ ، 198ء کو واپس تشریف لے گئے۔جناب صدر الدین صاحب انڈینیشیاء کے اُن خوش نصیب احمدیوں میں سے تھے جنہوں نے قادیان میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی سعادت پائی اور اس مقدمی بستی میں ۱۹۴۰ تک قیام پذیر رہے لیکے که روزنامه الفضل ربوه ۲۱ جنوری ، ۱۹۵ د ماده : له الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۵۰ ء مٹ سه اختبار بدر ۲ مارچ ۱۹۵۷ر متر آپ قبل از میں پاکستان میں انڈو نیشین سفارت خانہ کے فرسٹ سیکہ لڑی رہے۔)