تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 725 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 725

ان میں ملک عبد الرحمن صاحب خادم بھی تھے۔اس وقت تک ہم دونوں ایک دوسرے سے شناسا نہ تھے۔طلبہ اپنے پروگرام کے مطابق جاری رہا۔گیٹ پر سے پرندہ بھی ہوکر نہ گزرا صرف ایک شہری دیوار پھاند کر ڈال میں گئے۔بعد میں انہوں نے مجھ سے معافی طلب کی۔۔اس سے دس سال بعد ۱۹۴۱ء میں گجرات جانے کا اتفاق ہوا۔ممدوح کی مدینہ کتاب احمدیہ پاکٹ بک دیکھی۔جوفنی طور پر نہایت سلیقہ سے مرتب کی گئی ہے۔ایسے باکمال مصنف سے ملاقات کے بغیر واپس جانا شیوہ انصاف سے بعید ہے پہلی۔باکمہ ملاقات پر بر من کیا۔علی گڑھ کے آخری جلسہ سیرۃ میں میں شخص نے آپ حضرات کے مقاطعہ کے لیے کنٹ کی تھی وہ میں ہوں۔میرا عقیدہ اور عمل اب بھی اس انداز پر ہے لیکن آج آپ کی مؤلفہ کتاب احمدیہ پاکٹ بک دیکھ کر خیال گزرا کہ آپ جیسے صاحب فن کی ملاقات کے بغیر لوٹنا شیوہ انصاف سے بعید ہے۔کتاب الف سے لے کر تی تک غلط سہی لیکن فنی طور پر اس میں کوئی سقم نہیں ملک صاحب آپ نے عضب ڈھا دیا۔ممدوح نے جلسہ اور سلسلہ کی کوئی بات نہیں کی مگر اس روز کا الفضل مجھے پورا بنا دیا۔جیس سے پکی تلملا اٹھا دوسرے روز پھر حاضر ہوا آج بھی تانہ الفضل کا ایک ایک حرف سنا ڈالا تیرت روز بھی یہی انداز ! مجھے ان کی اس رفتار پر حیرت نہ تھی۔کذالك يفعلون - تعب اس پر تھا کہ اگر ان سے اس طرح سنتا رہا تو یہ مجھے کہیں کا رہتے نہ دیں گے ؟ میں نے مولانا احمد یار خان صاحب سے ان کے مناظرہ کی طرح ڈال دی۔مولانا محمدوح ہمارے عقیدہ میں بریلوی ہیں۔باخبر ! یہ مناظرہ ممدورج کی مسجد کے ایک حجرہ میں ہوا۔مضمون یاد نہیں دونوں صاحبوں نے سلجھی ہوئی باتیں کہیں ! کہنا یہ تھا کہ یہاں بھی ملک صاحب کی رفتار کا یہی عالم دیکھنے میں آیا بلاتکان مصروف گویائی ہیں۔اس سے پہلے ان کا ایک مناظرہ وزیر آباد میں مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ شنا۔مولانا محمد روح اپنے شکارہ کو گھیرنے میں بڑے ہوش یار تھے یہ عمل یہاں بھی جاری تھا۔خادم صاحب ان کی گرفت سے اس لیے نہ گھبرائے کہ وہ صرف اسی ایک موضوع پر گفتگوئے مناظر در عمل پیرا ہے ورنہ مولانا امرتسری کے سامنے کس کے قدم حجم سکتے تھے۔آخر اس شعر پر جھگڑا ہو گیا۔