تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 723 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 723

و کرم جناب احمدعبدالحق مجاہد امرتسری گنج مظهوره الاجور ہ حضرت ملک عبد الرحمن صاحب خادم سے میرا تعارف ۱۹۳۲ ء میں ہوا جبکہ آپ نے آحمدیہ فیلو شپ آن یو تھ کے نام سے ایک انجمن قائم کی اس انجمن کے اعراض و مقاصد یہ تھے کہ تبلیغ احمدیت کے ۵۲ لٹریچر شائع کرنا اور احمدیت پر اعتراضات کے جواب دینا خواہ وہ اعترا من نظریه ی رنگ میں ہوں یا تحریر میں آپ اس انجمن کے پہلے پریذیڈنٹ تھے۔ہر ماہ ایک ٹریکٹ چار صفحات کا شائع ہوتا تھا تومرحوم خادم صاحب خود تحریر فرماتے تھے اور ہر ممبر کو ۲۵ عدد ریکیٹ تقسیم کیلئے ملتے تھے آپ کے ان لڑکیوں نے لاہور میں ایک آگ لگا دی مخالفین نے احمدیت کی مخالفت ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اخبار زمیندار میں مضامین شائع کرنے کے علاوہ اسلامیہ کالج کی مسجد مبارک کو بطور ڈا مقرر کیا گیا۔ہفتہ میں تین بار اس مسجد میں احمدیت کے خلاف تقریر یں ہوئی عین اس کے جواب میں احمد یہ بہت لاہور میں خود جناب ملک عبد الرحمن صاحب خادم ان تقریروں کا جواب دیتے تھے یہ سلسلہ برا بہ کئی ہفتے چلتا رہا آخر حکومت کی طرف سے دونوں فریقوں کو نوٹس دیئے گئے اور مقدمہ دائر کیا گیا جماعت کی طرف جناب عزت تاب چو ہدری ظفر اللہ خاں صاحب پیش ہوئے اور تمام احمدی اصحاب کو ضمانتوں پر رہا کیا گیا اگر فریق مخالفت نے ضمانت دینے سے انکار کردیا۔اور ان کو جیل بھیج دیا گیا مقدمہ انگریز سٹر ڈزنی کی عدالت مضا مخالف علماء نے مرحوم خادم صاحب پر متواتر پا ۴ گھنٹے جرح کی اور پہلے ہی دن مخالفین کو شکست ہوئی اس مقدمہ کو سننے کے لیے امرتسر سے مولوی ثناء اللہ صاحب وحبیب اللہ صاحب کلرک خاص طور پر لاہور آئے ہوتے تھے آپ کے دلائل اس قدر بر جستہ اور وزن دار تھے کہ مسٹر ڈزنی بہت متاثر ہوئے آپ کی تقریرہ میں ایک خاص رنگ ہوتا تھا آپ سامعین پر چھا جاتے تھے۔گنج مغلپورہ میں احرار کا بہت نه در مظاہر پندرہ دن کے بعد ہمارے خلاف جلسہ کیا جاتا تھا اس کے جواب میں مرحوم خادم صاحب چھ چھ گھنٹے متواز تفریہ کرتے تھے اس قدر لمبی تقریر آپ نے سوائے مغلپورہ میں اور کسی جگہ نہیں کی ایک دفعہ احرار نے بغیر اشتہار چھپوائے جلسہ کیا حاضرین کی تعداد ہزاروں تھی لال حسین اختر نے اس جلسہ میں بڑی تعلیوں سے کام لیا اور کہا کہ خادم میرے مقابلہ میں نہیں آسکتا اتفاق سے آپ سیر کرتے ہوئے گنج میں آگئے اور بہیت میں دوستوں کو بیٹھے دیکھ کر فرمایا کہ کیا مشورہ ہورہا ہے یہ بتانے پر کہ لال حسین نے یہ فقرہ آپ کے متعلق کہا ہے فرمانے لگے یہ اس کا آخری جلسہ ہے پھر کبھی وہ اس جگہ نہیں آئے گا یہ