تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 722 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 722

باہر باغ میں مختلف قسم کے مذہبی خیالات کے لوگ شام کے وقت اکٹھے ہو جایا کرتے۔اس میں دہریہ بھی ہوتے آریہ اور سناتن دھرمی بھی۔خادم صاحب اکثر اس مجلس میں شامل ہوتے اور خوب بحث مباحثہ رہا کرتا۔اور معین اوقات اچھا خاصا مجمع ہو جایا کرتا۔مجھے ایک مثال بھی یاد نہیں کہ خادم صاحب سے کسی نے احمدیت پر کسی اعتراض کا جواب پوچھا ہو۔اور انہوں نے کہا ہو کہ مجھے ابھی فرصت نہیں کہ یا موقع نہیں یا پھر کسی وقت آئے۔طبیعت میں شگفتگی تھی اور بعض محاورات کو مزاحیہ رنگ میں دے کر اسے بار بار دھراتے تو ایک مذاق بن جاتا اور پھر دوسرے بھی اس کی نقل کرنے لگتے۔مثلاً یہ کہنا کہ ہمیں طبیعت صاف کر دوں گا۔اس کی بجائے کہتے کہ میں طبیعت کپڑ چھان کر دوں گا وغیرہ۔نظم خوب کہہ لیتے تھے۔مگر میں نے کبھی ان کو اپنی نظموں کا ریکارڈ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔البتہ اکثر اپنی دینی نظمیں الفضل وغیرہ میں شائع کر وا دیا کرتے۔اکثر حوالے انہیں از بر یاد ہوتے اور جب دوران تقریر میں وہ حضرت مسیح موعود کی وہ تحدیانہ تحریر یں جو حضور نے مخالفین کو چیلنج کر کے لکھیں ہیں زبانی بوش کے ساتھ فرفر سناتے تو ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی۔الزامی جواب ان کی طرف سے خاص طور پر نہ در آور ہوا کر تا تھا۔اور معتز من بعض اوقات سٹ پنا اٹھتا تھا۔حضرت۔۔۔۔۔۔۔۔۔خلیفة المسیح الثانی ایده الله نصرہ العزیز کی دعا اور توجہ یہ کامل یقین تھا۔اور اطاعت امام کے نہایت اعلیٰ مقام پر تھے۔حضور سے بے حد محبت اور عقیدت تھی۔ایک مرتبہ عزیز عبد الباسط صاحب کو بہت تیز بخار تھا۔ادھر حضور نے خادم صاحب کو طلب فرمایا ہوا تھا۔بچہ کو اسکی حالت میں چھوڑ کر چل پڑے۔اس کی شدید بیماری کے متعلق تشویش اتنی تھی کہ جب گجرات اسٹیشن پر کر معلوم ہوا کہ گاڑی لیٹ ہے اور ابھی کچھ وقت باقی ہے۔تو اسٹیشن سے پھر گھبرائے ہوئے گھر بچہ کو دیکھنے آئے۔لیکن بچہ کو اسی حالت میں چھوڑ کر چل پڑے۔حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عزیز کی بیماری کا ذکر کیا۔اور کہتے تھے کہ حضور نے جس توجہ سے سُنا۔مجھے اسی وقت یقین ہو گیا کہ حضور کی دعا سے بچہ کی بیماری جاتی رہے گی۔چنانچہ بعد میں جب گھر واپس پہنچے تو معلوم ہو کہ بچہ کا بخار اسی وقت ہی اتر گیا تھا یا ر الفرقان جنوری ۱۹۵۹ء م ۲۶ و مت (۲)