تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 721
تبلیغ ہی تھا۔لوگ احمدیت پر اعتراض کرتے اور وہ ان کا یہ کیا کرتے۔بازار میں ہی بعض اوقات گفتگو شروع ہو جاتی تو گھنٹوں جاری رہتی لوگ اکٹھے ہو جایا کرتے اور احمدیت کی صداقت کے دلائل ایک طالب علم کی زبانی سنا کرتے۔اس زمانہ میں بھی کسی کے علم سے مرعوب نہ ہوتے اور کامل وثوق کے ساتھ مدل طور پر اپنی بات کو پیش کرتے۔عام طور پر جب حضرت مسیح موعود کی کسی تحریر پر کوئی شخص اعتراض کرتا تو خادم صاحب ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ آگے پڑھو۔معرمن رکتا اور وہ اصرار کرتے کہ آگے پڑھو کیونکہ سیاق و سباق خود ہی اعترا من کو حل کر دیتے۔لاہور کالج کے زمانہ میں جب امیر صاحب جماعت احمدیہ لاہور کی اجازت سے احمدیہ فیلوشپ آف یو تھ بنائی تو ٹریکٹوں کے شائع کرتے ہیں اس قدر انہماک تھا کہ بعض اوقات آدھی آدھی رات تک پریس والوں اور کاتبوں وغیرہ کی طرف چکہ لگاتے رہتے اور پھر سارے لاہور شہر میں اس طرح تقسیم کراتے میںاس کہ شہر میں ایک شور پڑھاتا۔کھیلوں میں سے کرکٹ اور والی بال کا شوق تھا اور کیرم بورڈ بھی خوب کھیل لیتے تھے۔بعض دوستوں کو جن سے گہرے تعلقات ہوتے بہت خطوط لکھتے بلکہ بعض اوقات ایک ایک دن میں دو دو تین تین خط لکھ دیتے۔سکول اور کالج ڈیٹ میں ہمیشہ حصہ لیتے اور بحث میں شگفتگی پیدا کر دیتے۔میں بچپن ہی سے پان بہت کھاتے تھے۔مثربت یا سوڈا واٹر بے حد برف ڈال کر خوب ٹھنڈا کر کے پیتے۔احمدیہ ہوسٹل کے زمانہ سے اور پھر اس کے بعد تک چائے خوب گرم ہیتے۔بچپن کے زمانہ معنی سکول کے وقت سے ہی قلم لکھتے تھے۔واقعات کو دلچسپ پیرائے میں منظوم کر لیتے۔اگر کسی لڑکے سے پر خاش ہو جاتی تو پھر اس کی ہجو بھی لکھتے۔اور ہم جماعت لڑکوں کو اکٹھا کر کے فرصت کے وقت میں سناتے اور خاصہ مشغلہ ہو جاتا۔ایک زمانہ میں کچالو کھانے کا بہت شوق ہو گیا تھا۔بعض اور دوست کچالو کھانے کے شوقین تھے۔ان کے ساتھ مل کر بہت کچالو کھا جایا کرتے۔مٹھائی میں برفی بہت پسند بھی پچھلی بھی بڑے شوق سے کھاتے تھے۔احمد یہ ہوسٹل کے زمانہ میں موری دروازہ لاہور کے