تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 720 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 720

اور ان کے بچوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق وافر عطافرمائے۔آمین۔ملک صاحب مرحوم عمل زندگی میں انقطاع الی اللہ کی نہایت پر منفعت مثال تھے۔وہ دنیا میں رہتے تھے پر دنیا سے بالکل بے پرواہ ہو کر با وجود ایک نہایت ہی دنیا دارانہ پیشہ اختیار کرنے کے انہوں نے دنیا کو کبھی اختیار نہ کیا تھا۔اور ان کی دینی عملی زندگی دیکھ کر ہمیشہ رشک آیا کرتا تھا۔لیکن یہ خاصیت اللہ تعالی کے خاص فضل سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔زور باند سے نہیں۔اپنا نقطہ نظر پیش کرنے میں مکرم ملک صاحب مرحوم نہایت نڈر تھے اور ان کی زبان اور نطق میں اللہ تعالیٰ نے بے اندازہ برکت رکھی تھی۔منادات پنجاب (۱۹۵۳ء) کے تحقیقاتی کمیشن کے رد برد دینی حصہ کو پیش کرنے میں جس بے لوث اور جرات مندانہ انداز میں آپ نے جماعت احمدیہ کی وکالت کی وہ فاضل جج صاحبان سے بھی خراج عقیدت حاصل کر گئی۔جس کا انہوں نے اپنی رپورٹ میں نہایت زور دار الفاظ میں ذکر کیا ہے۔جتنی دیر ملک صاحب تقریر کرتے رہے تمام سامعین گویا مسحور ہی رہے۔جماعت احمدیہ کو ماضی قریب میں بہت سے مخلص اور پر جوش خدام سے جدا ہونا پڑا ہے وہ لوگ تو اپنا عہد اللہ تعالی سے باندھ کر اُسے کما حقہ نباہ کر اُس کے پاس چلے گئے۔لیکن جو ابھی تک اس سجن المومنین میں موجود ہیں اُن پر ایک نہایت ہی عظیم زمہ داری کا بوجھ پڑا ہے۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہر آن ہم میں صادق اور عرفانی اور خادم پیدا ہوتے رہیں۔تاکہ خدا کے کام میں روک پیدا نہ ہو بلکہ اس کا کام پہلے سے بھی پڑھے کہ وسیع اور کامیاب موبیلہ۔جناب بشیر احمد صاحب چغتائی کی۔ایس سی واہ کینٹ۔میں ۱۹۲۵ء میں گجرات انٹر میڈیٹ کالج میں دسویں میں جاکر داخل ہوا۔تو محترم بھائی ملک عبدالرحمن صاحب قادم مرحوم و مغفور سے تعارف حاصل ہوا۔عربی اور اردو ہمارے مشترک مضامین تھے بند دن ان کے گھر پر میٹرک کے امتحان کی تیاری کے سلسلہ میں عربی اکٹھی بھی پڑھتے رہے۔دوستانہ تعلقات بڑھے تو رفتہ رفتہ گہرے برادرانہ تعلقات ہو گئے۔اس زمانہ میں بھی ان کا بہترین اور محبوب مشغلہ له الفرقان جنوری ۱۹۵۹ء م۲۱۳