تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 719 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 719

مناسبت کے باوصف اس کا نام "عشرہ مبشرہ رکھا گیا تھا۔ملک صاحب مرحوم مضامین لکھتے تھے جوڑ کیوں کی صورت میں شائع ہوتے رہتے تھے۔اور تبلیغ کا اس قدر وسیع کام ہوتا تھا۔کہ اس انجمن کے ہر ممبر کے لیے دل سے دعا نکلتی تھی۔مضامین صرف جوابی ہی نہیں ہوتے تھے جبکہ اپنے نظریات بھی پیش کیے جاتے تھے اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے نتائج نہایت شاندار حاصل ہوتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس تبلیغی جدو جہد کے ذریعہ سے سلسلہ حقہ احمدیہ کو کئی نوجوان مخلص خادم بھی عطا فرمائے۔جو آج بھی اس انجمن کے ممبران کے لیے بطور صدقہ جاریہ ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مالک اس نہایت ہی مفید کام کے صلے میں مکرم ملک صاحب مرحوم اور باقی تمام عمران کو نہا بہت اعلی درجہ کے انعامات سے نواز سے آمین کالج کے زمانہ کے بعد ملک صاحب مرحوم کو میں والہانہ اندانہ میں اسلام کی تبلیغ کے جذبہ سے سرشار دیکھ بہت ہی کم نو جوانوں میں وہ جذبہ دیکھنے میں آیا ہے۔تمام لوگ جانتے ہیں۔کہ وکالت کا کام بہت محنت اور توجہ چاہتا ہے اور ملک صاحب مرحوم اپنے کام میں کامیاب تھے۔اس لیے انہیں بہت کم فارغ وقت مل سکتا ہو گا۔پھر بھی جب کبھی دین کی ضرورت کا انہیں علم ہوتا۔وہ بغیر کسی عذر کے فوراً خدمت کے لیے تیار ہو جاتے۔ان کی اس بے لوث دینی مستعدی کی وجہ سے ان کا تخلص خادم نہایت موزوں تھا۔بعض لوگ وقت کی قربانی بھی پیش کر دیتے ہیں مال کی قربانی بھی پیش کر دیتے ہیں۔لیکن اپنے اسلام کی قربانی میں شکستی دیکھا جاتے ہیں۔ملک صاحب مرحوم کو میں نے دیکھا کہ وہ ہر قسم کی قربانی پر طیب خاطر اور کما حقہ ادا کرتے تھے۔ایک دفعہ ضلع گوجرانوالہ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں مجلس مناظرہ منعقد ہوئی۔جہاں مکرم ملک صاحب کو احمدیہ نقطۂ نگاہ پیش کرنے کے لیے بلوایا گیا تھا۔راقم الحروف کو بھی اس مجلس میں شمولیت کا موقعہ ملا۔اختتام مناظرہ پر ریلوے سٹیشن نارنگ تک پہنچنے کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔اس لیے ہم پیدل ہی آئے فاصلہ قریباً آٹھ میں ہو گا میں نے دیکھا کہ باوجود دو دن مناظرہ میں متعدد تقریریں کرنے کے مکرم ملک صاحب مرحوم نے یہ فاصلہ بغیر کسی تھکاوٹ کا اظہار کرنے کے طے کیا حالانکہ ہمارے ساتھ کے کئی احباب تکان سے بحال ہو رہے تھے۔دینی خدمات کے ضمن میں ملک صاحب مرحوم کے لیے کوئی رکاٹ روک پیدا نہ کر سکتی تھی۔غیرت دینی اور پابندی نظام میں بھی مکرم ملک صاحب معزز حیثیت رکھتے تھے اور ان کو دیکھ کر ہمیشہ دل سے ان کے لیے دعا نکلتی تھی۔اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں انہیں نہایت اعلیٰ مقام عطا فرمائے