تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 718
۷٠٣ کہ وہ سب کچھ منظور کرتے ہیں۔خادم صاحب نے موضوع کیا جنا ب حسان بن ثابت کی شاعری ہمارے دوست جانتے ہیں کہ حسان بن ثابت کے ایک شعر نے ابتداء اسلام کے اس شاعر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور عاشق کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔اس شعر کی تقریب کو حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اور آپ کے متعین نے اور علی الخصوص ہمارے موجودہ امام اور خلیفہ ایدہ اللہ نصرہ العزیز نے خوب اجاگر کیا ہے۔حسان بن ثابت نا بینا تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر انہوں نے اس شعر میں کہا که نامه تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔یعنی مجھے اندھے کی دنیا تیری وجہ سے روشن متقی اب تیرے مرنے کے بعد مجھے پرواہ نہیں کون جیتا اور کون مرتا ہے۔خادم صاحب کے دل ودماغ میں سلسلہ کی تحریر یں بسلسلہ کا مخصوص علم۔اور طرز کلام پوری طرح راسخ تھا۔(ہاں اس طالب علمی کے زمانے میں !) آپ نے ایک علمی موضوع کے لیے اسی خزانے کی طرف رجوع کیا۔اشارہ وہاں سے مل گیا۔اپنے مطالعے سے اسی اشارے کو پھیلا کہ آپ نے پورا مضمون تیار کر لیا۔حسان بن ثابت کا مجموعہ کلام لائبریری سے لے کر چھان مارا۔زندگی کے حالات سب قسم کے ماخذوں سے جمع کر کے مرتب کرلئے۔اور سیرت نبوئی اور زمانہ ابتداء اسلام کے اس خدائی رسول اور خدائی اسلام کی سیرت اور شاعری کو ایسے عمدہ طریق سے مربوط کیا کہ مٹنے والے عش عش کر اٹھے۔مقالہ سٹڈی سرکل کا شاہکار ثابت ہوا۔احمدیہ ہوسٹل ایمپرس روڈ میں اجلاس ہوا اجلاس میں لاہور کے کئی پر و فیسر موجود تھے ان میں عربی ادب اور اسلامی تاریخ کے استاد بھی تھے لیے محترم چو ہدری محمد اسد اللہ خان صاحب بار ایٹ لاء سابق امیر جماعت احمدیہ لاہور ر برادرم مکرم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم و مغفور کے ساتھ مجھے دیرینہ تعلق تھا۔ابھی وہ لاء کالج میں وکالت کی تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ میرا ان سے بے تکلف رابطہ ہو گیا تھا۔میں نے ان کو نہایت با غیرت پکا اور سچا مو من احمدی مسلمان پایا۔ان کا دینی مسلم بہت گہرا اور وسیع تھا۔کالج کے زمانہ میں انہوں نے ایک انجمن قائم کی تھی۔جس کے ممبران کی تعداد دینا تھی۔اور اس له الفرقان جنوری ۱۹۵۹ء مکا تا ۲۰