تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 714
گجرات کی بنیاد رکھی۔جس کے ہفتہ وار تبلیغی اجلاس منعقد ہوتے تھے۔محترم خادم صاحب اس ایسوسی ایشن کے صدرہ اور روح رواں تھے۔ابھی آپ نویں جماعت میں پڑھتے تھے کہ مقامی عیسائیوں نے مشن ہائی سکول گجرات کے دین کیا ڈونڈ میں ایک عظیم الشان پبلک تبلیغی جلسہ کے انعقاد کا اعلان کیا اور پا در عبدالحق صاحب کو خاص طور پر اس جلسہ میں لیکچر دیتے کے بیٹے بلایا گیا۔پادری صاحب کی تقریبہ کے بعد تقریر پر اعتراضات پیش کرنے کا اعلان کیا گیا۔اس پر ہمارا نو آموز مجاہدہ خادم خدا کا نام لے کر میدان میں کود پڑا۔اور سوال وجواب کا سلسلہ شرو ع ہوگیا۔جس نے بالآخر ایک باقاعدہ مناظرہ کی صورت اختیار کر لی۔پادری عبد الحق صاحب کو اپنی منطق اور عربی دانی پر بہت نازہ اور گھمنڈ تھا۔خادم صاحب نے آدھ گھنٹڈ کے اندر اندر اپنے برجستہ اور ٹھوس دلائل سے پادری صاحب کو لاجواب کر دیا۔اور پادری صاحب جلسہ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔جس پر غیر عیسائی حاضرین جلسہ نے پادری صاحب پر سٹی سٹیم کے نعرے لگائے۔محترم خادم صاحب کا یہ پہلا پبلک مناظرہ تھا جس سے ان کی آئندہ درسیل تبلیغی جدو جہد کا آغازہ ہوتا ہے۔اس کے بعد آپ نے احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن گجرات کے زیر اہتمام مقامی اگر یہ سماج اور غیر احمدی علماء سے پے در پے متعدد کامیاب پہلک مناظرے کیے۔مہفتہ رفتہ آپ کی شہرت تمام جماعت میں پھیلنی شروع ہو گئی۔اور آپ اپنے تعلیمی مشاغل کو پس پشت ڈال کہ ملک کے طول و عرض میں میدان مناظرہ پر چھا گئے۔آپ نے مشہور زبان درانہ دریدہ دین مخالفین سلسلہ پر اپنی خداداد قابلیت اور لاجواب فن خطابت سے ہیبت طاری کر دی۔۱۹۳۴ء میں محترم خادم صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے کلاس میں پڑھتے تھے۔ان دنوں جناب قاضی محمد اسلم صاحب جماعت لاہور کے امیر تھے قاضی صاحب موصوف کی سرپرستی میں ہم نے احمدیہ فیلو شپ آف یو مقو لا ہور کی بنیاد رکھی۔محترم خار کم صاحب اس مجلس کے صدر تھے۔اور ان کی صدارت میں احمدیہ فیلوشپ آف یو کھلا ہور نے تبلیغ کا ایک وسیع پروگرام مرتب کر کے اسے عملی جامہ پہنایا۔اور کثیر تعدادمیں تبلیغی ٹریچر شائع کیا۔جب تک آپ لاہور میں بسلسلہ تعلیم مقیم رہے نشرو اشاعت کا یہ سلسلہ با قاعدہ جاری رہا۔۱۹۲ء میں آپ نے وکالت شروع کی لیکن زیادہ تر آپ سلسلہ کی خدمات میں سرگرم عمل رہے اور آپ نے ہمیشہ پیشہ وکالت کو ایک ثانوی حیثیت دی۔۱۹۴۶ء سے وفات تک جماعت مجرات کے