تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 713
۶۹۸ صاحب کی اچانک اور بے وقت وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وفات سے نہ صرف ایک دیرینہ ہمدرد دوست کی رفاقت سے رسم مردم ہو گئے ہیں۔بلکہ ایک عالم ہمارے رمیان سے اٹھ گیا ہے۔جو ہمہ گیر لیاقت اور تخلیقی صلاحیتوں کا حامل تھا۔رشتہ داروں کے ساتھ سلوک میں جو خاص بات میں نے دیکھی اور تواتر کے ساتھ جس کا تجربہ کیا۔وہ یہ تھی۔کہ کسی سے ہمد بندی کے موقعہ پر ان کا دل جس کے تابع ان کا عمل ہوتا تھا۔نہ یادہ حرکت کرتا۔اور زبان کم۔وہ کسی کا کام کر کے اس کو احسان جتانا اپنے وقار کے خلاف سمجھتے تھے۔صرفت یہ نہیں۔بلکہ اگر ان کے سامنے کوئی احسان پذیرائی ظاہر کرنا چاہے تو ان کے چہرہ پر ناگواری کی خشونت کے آثار نظر آتے لگتے تھے۔وہ رشتہ دار سے رشتہ داری کے تعلق میں کسی قسم کا فائدہ اٹھانا عار خیال کرتے تھے۔بحیثیت وکیل یا کسی اور تنگ میں بھی اپنے رشتہ داروں۔دوستوں اور بے کسی غریب ناداروں کی بلا دحیہ معاوضہ خدمت کرتے نگر خود حتی الوسع کسی اپنے ذاتی کام کے لیے فرمائش کرنے سے کتراتے تھے۔عوام سے جو ان کی اس سیرت سے واقف تھے بالخصوص ضلع کے اندر جماعت کے کمزور اور بے کس افراد جو اپنی ہر مشکل کے موقعہ پر ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔اب ان کی مفارقت کو بہت زیادہ پھسوس کرتے ہیں۔عزیزم خادم صاحب کو مکرم مولانا ابو العطاء صاحب کے ساتھ اپنی بہت اوائل ایام تبلیغ سے محبت اور مودت کے تعلقات تھے وہ مولانا صاحب موصوف کی علمی صلاحیتوں کے مداح تھے۔اور کہتے تھے کہ ان صلاحیتوں کے علاوہ وہ صوفی منش ہیں اب خادم صاحب کی وفات کے بعد ہر شخص اپنے اپنے تعلق کے مطابق ان کی جدائی کو محسوس کرتا ہے۔میلے " بچو ہدری بشیر احمد صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ گجرات - ئیس محترم خادم صاحب مرحوم و مغفور کو اوائل طالب علمی سے جانتا ہوں۔وہ میرے مخلص ترین اور وفادار دوست تھے۔سکول اور کالج کی تعلیم کے زمانہ سے تبلیغ ان کا مرغوب مشغلہ رہا۔پڑھائی کی طرف بہت کم توجہ تھی۔جب آپ نے مڈل کا امتحان پاس کیا تو ہم نے مل کر احمد بہ ینگ مین ایسوسی ایشن ه الفرقان جنوری ۱۹۵۹ء ص ۳۳ تا ۴۰