تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 712 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 712

494 ان کا تعلق یکساں خلوص رہتے تکلفی کا تھا۔کسی کے جذبہ دوستی کی حقیقی قدر و منزلت کا حال تب کھلتا ہے۔جب وہ اپنی زندگی کا ابتدائی طالب علمی کا دور طے کر کے مروجہ تمدن کی مختلف المدارج سوسائٹی میں داخل ہوتا ہے۔اگر اپنی اس نئی منزل میں بھی اس کا سلوک سوسائٹی کی طبقاتی تقسیم کے علی الرغم اپنے قدیم مجولیوں اور ہم نشینوں سے ویسا ہی رہتا ہے۔جیسا کہ ان سے کبھی پہلے تھا۔تو پھر سمجھو۔کہ و شخصی حقیقی دوستی کے جذبہ کا امین ہے اس معیار پر اگر خادم صاحب کی دوستی کو جانچا جائے۔تو صاف نظر آئے گا۔کہ ان کو زیادہ بیگانگت اور خیر سگال کا تعلق ایسے مخصوص دوستوں سے تھا جو بظاہر سوسائٹی کی طبقاتی تقسیم میں کسی بہت سے ان سے نچلے طبقہ میں تھے۔کیونکہ خادم صاحب ان کی خاطر داری کا خیال اور دلداری کا اہتمام اب بھی اسی طرح کرتے تھے۔جیسا کہ ماضی کے بعید ایام میں۔دوستانہ ہوا خواہی کا سرچشمہ دل ہے۔اور وہاں تک ایک غیر کی نظر کو خواہ وہ کتنی ہی تیز اور سریع کیوں نہ ہو۔قابل اعتبار رسائی نہیں۔اس لیے میں حالات چشم دید کی بنابر پہ ان کے دوستوں میں کوئی قابل اعتبار تقسیم تو نہیں کر سکتا۔مگر یہ میں کہ سکتا ہوں کہ یہ جو بظاہر ان کے دوستوں کا حلقہ بہت وسیع نظر آتا ہے۔اس کی اگر با ہمی اخلاص مردت اور قربانی کی جریب سے حد بندی کی جائے۔تو کچھ لوگ اس حلقہ سے باہر کھڑے نظر آئیں گے۔مگر اس میں کسی کا قصور نہیں۔ہمارے مادری مندن مادی ماحول مادری نظریہ زندگی کے اس روح کش نہ مانہ ہیں جیسا کہ بقول شیخ سعدی علیہ الرحمۃ حیشہ شیریں کے گرد مورد سلیخ اور ایک سیاسی شخصیت ملک و سلطان کی صحبت میں نفع گیر مصاحبین جمع ہو جاتے ہیں۔ویسے ہی کسی مفید وجود کی طرف جو اپنے ذہن رہا۔عملی توت پختگی عزم اور اثر و رسوخ کی بدولت قابل قدر ہو متمدن مصلحت کوشش فرزانوں کا رخ کرنا بعید از قانون قدرت نہیں۔خادم صاحب حقیقتاً خادم اسلام تھے۔اور فقط یہ خوبی ان کی وجہ امتیاز تھی۔یہانتک کہ ان کے عقیدہ کے مخالف بھی ان کی اس خوبی کریکٹر کے بادل نخواستہ قائل تھے۔اس کے ساتھ وہ پختہ مغز - مدیر عاقبت اندیش مشیر اور راسخ العریم با ہمت نبوان تھے۔اور ان چیزوں کی اس دنیا میں بہت مانگ ہے اس لیے ایسے وجود کے دامن سے اگر بعض مصلحت کیش ملی و البستہ نظر آئیں۔تو کسی کو تعجب نہ کرنا چاہیئے۔ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گجرات نے اپنی قرار داد تعزیت مورخہ یکم جنوری ۱۹۵۸ء میں خادم