تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 57
حضرت علی نہ بھی اپنی کے ہا تھوں شہید ہو گئے اس کے بعد یہ اختلاف بڑھنا گیا اور مسلمان کبھی ایک ہاتھ پر جمع نہ ہوئے۔اب تیرہ سو سال کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو پھر ایک ہاتھ پر جمع کیا جائے اور ان کے اندر اتحاد اور کیمیتی پیدا کی جائے ** " گر اب پھر بعض خبیث اور بد باطن چاہتے ہیں کہ اس اتحاد کو توڑ دیں اور جماعت میں افتراق اور انتشار پیدا کر دیں۔مگر ان کی ان کارروائیوں کا سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کہ اللہ تعالی کی لعنت ان پر یہ سے گی خدا تعالیٰ کے نزدیک سلسلہ کا اتحاد دس ہزار نور الدین سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور گدھے ہیں وہ جو ان کا نام لے کر فتنہ پھیلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ اول تھے۔اگر وہ خلیفہ اول تھے تو نظام سلسلہ کے قائم کرنے کے لئے۔نہ کہ اس کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اگر کوئی شخص ان کا نام لے کر اس نظام کو توڑتا ہے تو وہ خود نور الدین پر قاتلانہ حمد کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے اسے نور الدین ہرگز بچا نہیں سکے گا۔خدا تعالیٰ ان سے کہے گا کہ میں نے تجھے اس لئے عزت نہیں دی کہ تیرا نام لے کر یہ لوگ میرے سلسلہ اور نظام پر حملہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے شک بہانے بنانے والے ہزاروں بہانے بنائیں گے مگر جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ولات حین مناص اب ان کے بہانے ختم ہو چکے ہیں اور ان کے لئے بھاگنے کا کوئی رستہ باقی نہیں رہا۔سلسلہ کی خدمت کا اب ایک ہی طریق ہے کہ وہ خلافت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے یکھیں اگر وہ اپنی خفتہ پہ دانیوں سے باز نہیں آئیں گے تو ایک نورالدین کیا نوح اور موسی اور عیلی بھی مل کہ انہیں خدا کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے بلکہ دیکھ لو خود سادات میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دین میں تفرقہ انداز می کرتے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں۔مگر کیا اس لئے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل میں سے ہیں ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جب مخالفین کو مباہلہ کے لئے چیلنج دیئے تو ان میں کئی سادات سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے پس محض کسی بڑے آدمی کی نسل میں سے ہونا اسے خدا تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی احمقوں ص:۳۹