تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 56
۵۶ صاحب سینٹر سب زج ایبٹ آباد کا مصدقہ متھا یہ سائی تحرک اور اس کے بولنا نتا ئج سے سبق حاصل کرنے کی تحریک سیدنا حضرت مصلح موعود نے جماعت کو فتنہ رمنافقین سے آگاہ کرنے کے بعد ۲۰ جولائی 10 کو تحریک فرمائی۔کہ وہ حضرت عثمان کے خلاف اٹھنے والی عبد اللہ بن سباء کی تحریک، اس کی شورشوں اور اس کے ہولناک نتائج سے سبق حاصل کریں۔چنانچہ حضور نے خطبہ جمعہ کے دوران فرمایا :- تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن پھر بھی ان واقعات کو ہم نظر اندازہ نہیں کر سکتے۔حضرت عثمان منہ کے زمانہ میں لوگوں سے یہی غلطی ہوئی کہ بعض صحابہ نے سمجھ لیا کہ پونی ایک معمولی سا ختنہ ہے اس کا کیا مقابلہ کرنا ہے جب حضرت عثمان پر تلوار اٹھائی گئی تو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ کمبخت۔میں تو اسی سال کا بڑھا ہوں میں نے ایک دن مرنا ہی تھا لیکن اب جو تم مجھ تلوار اٹھا رہے ہو تو یاد رکھو میرے قتل کے بعد قیامت تک مسلمان ان دو انگلیوں کی طرح پھٹے رہیں گے۔اور وہ کبھی اکھتے نہیں ہوں گے تمہارے اتحاد کا واحد ذریعہ یہ تھا کہ تم خلافت کو مضبوطی کیساتھ پکڑے رہتے۔میں نے تو مرجا نا تھا اسی سال میری عمر ہو چکی تھی اب میں اور کفتا زندہ رہتا۔مگرمیرے قتل کے بعد تم کبھی اتحاد سے نہیں رہو گے چنا نچہ دیکھ لو حضرت عثمان کو قتل کرنے والے زیادہ تو حضرت علی سے اپنا تعلق جتاتے تھے مگر حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علی نے ان سے کیا سکھ پایا پہلے جنگ جمل ہوئی جس میں ہزاروں مسلمان مارے گئے۔پھر معادیہ نے حملہ کر دیا اور پھر وہی لوگ جو حضرت عثمان کے قتل کے بعد حضرت علی کے ساتھ جا ملے تھے اپنی میں سے ایک جماعت حضرت عسل لہ سے الگ ہو گئی اور اس نے حضرت علی کو کافر کہنا شروع کر دیا تا مرحضرت ملی نہ نے ان پر تلوار اٹھائی اور ایک ہی دن میں دس ہزار خارجی قتل کر کے رکھ دیا وہ لوگ جنہوں نے عثمان کو علی کے نام سے مارا تھا انہوں نے پھر عملی " کے خلاف بغاوت کردی اور آخر لله الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۵۶ ۶ صفحه ۵۰۴