تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 704 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 704

۲ - حضرت سیدہ زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب م ملک عبدالرحمن صاحب خادم کو اس وقت سے جانتا ہوں۔جب وہ منزل میں تھے۔مجھے گجرات سلسلہ کے کام کے تعلق میں جانا پڑا۔اور وہاں مجھے جماعت کے نوجوانوں کی طرف سے ایڈریس پیش کیا گیا۔اور اس اجلاس میں ایک تنظر یہ خادم صاحب نے کی مجھے ان میں غیر معمولی ذہانت کا احساس ہوا۔اس کے بعد جب بھی گجرات جانے کا موقع ہوا ایک جلسہ منعقد کیا جاتا۔اور خادم صاحب اور ان کے ساتھی تقریریں کرتے یہانتک کہ انٹرنس پاس کرنے تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتا بوں اور سلسلہ کے لڑکیچر سے ان کی واقفیت کافی ہو چکی ہوئی تھی۔کالج میں داخل ہوئے تو ان کا شوق مطالعہ اور تقریر نمایاں تھا۔اور بحیثیت ناظر دعوت و تبلیغ انہیں طالب علم مبلغین کے ساتھ جلسوں اور مباحثات میں بھیجنا شروع کیا ہوتے ہوتے جلسہ سالانہ کے سٹیج پر یہ میں صورت میں نمایاں ہوئے اور جیس طریق سے خدمت سلسلہ کی توفیق ان کو ملی وہ محتاج اعادہ نہیں۔خلاصہ یہ کہ خادم مرحوم کو طالب علمی کے زمانہ سے ہی اپنے والد بزرگ کے اسوہ حسنہ وتلقین کے ماتحت اپنے تئیں از خود خدمت سلسلہ کے لیے تیار کرنے کی توفیق علی۔جو ہم میں سے ہر ایک کے لیے قابل رشک اور سبق آموز ہے۔بہت سے طلبہ تدریس نصاب کہ یا کالج کا حق بہانہ ہی بناتے ہیں۔کہ ان کا مطالعہ۔دینی کتب کے مطالعہ کے لیے وقت نہیں چھوڑتا۔اگر شوق ہو یا دینی خدمت کی ضرورت کا سچا احساس ہو تو وقت نکالنا کیا مشکل ہے جو حل نہ ہو سکے۔ایساعذر کرنے والے بسا اوقات گپ شپ میں اپنا وقت عزیز ضائع کر دیتے ہیں۔خادم مرحوم کی زندگی ماستری درق ہمیشہ کے لیے یاد گار ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے نوجوان ہماری جماعت میں بیسیوں پیدا کرتا رہے۔تا یہ سلسلہ اپنی جد و جہد مسلسل جاری رکھنے کی توفیق یا تار ہے، پہلے را جد عسلی حمد صاحب امیر جماعت احمد به گجرات " میرے پیارے مرحوم ملک عبدالرحمن خادم احمدیت کے ایک ابہادر فرزند اور قابل فخر نڈر مجاہد تھے ان کی زندگی کے ہر باب کا سرورق خواہ وہ عہد طفولیت کا ہے۔یا زمانہ طالب علمی یا معاشرتی جدوجہد کا ایثار و قربانی کا مرقع ہے لة الفرقان جنوری ۱۹۵۹ ء م ۶