تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 701
YAY کے آخری دن میں خادم صاحب نے وارغ جدائی دیا ہے۔وكل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال ولا كرام۔کے تحقیقاتی کمیشن میں اور اس کے بعد گزشتہ فتنہ کے تعلق میں بھی خادم صاحب کی خدمات بہت قابل قدر ہیں۔اور مناظرہ کے میدان کے تودہ ایک بہادر شہر تھے جو کسی مخالف طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔بلکہ منی کی تائید میں انہیں اس درجہ خدا پر بھروسہ تھا کہ گھر ہٹ تو دور کی بات ہے وہ اپنی حاضر جوابی اور لطائف سے مناظرہ میں بھی گفتگی پیدا کر دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے بیوی بچوں اور دیگر عزیزوں کو جوان کے نقش قدم پر ہیں اپنے فضل درحمت کے سایہ میں رکھے اور دین و دنیا میں ان کا حافظ و ناصر ہوا اور ان کے مجھکے ہوئے عزیزوں کو بھی ہدایت فرمائے آمین ) (الفضل ۳ جنوری ۱۹۵۸ صفحه ۲) رب ہر ترقی یافتہ انسان کی زندگی کا ایک خاص پہلو ہوا کہتا ہے۔یہیں میں وہ اکثر دوسرے لوگوں سے امتیاز پیدا کر کے ان کے لیے گویا ایک نمونہ بن جاتا ہے اور فرض شناس لوگ اس کی مثال سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگیوںمیں ترقی کا راستہ کھو لتے ہیں۔یہی صورت ملک عبدالرحمن صاحب خادم کی زندگی میں نظر آتی ہے نہوں نے آج سے ایک سال قبل گو یا بالکل جوانی کے عالم میں وفات پائی - خادم صاحب مرحوم گجرات صوبہ پنجاب کے رہنے والے تھے اور کسی ایسے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے جس میں علمی تجرا در تبلیغی ذوق وشوق کی کوئی خاص رہدایات پائی جاتی ہوں۔بلکہ خود ملک صاحب مرحوم نے بھی کسی دینی درس گاہ میں تعلیم نہیں پائی اور نہ کسی عالم دین کی باقاعدہ شاگردی اختیار کر کے دین کا علم سیکھا۔ان کی درسی اور عربی تحصیل علم صرف اس قدر تھی کہ انگریزی کا بچوں کی فضاء میں بی۔اسے پاس کر کے دکارت کا امتحان دیا۔اور پھر بظاہر سال می شمر عدالتوں میں گشت لگا کہ اپنی روزی کماتے رہے۔مگر باوجود اس کے خادم صاحب مرحوم نے محض اپنے ذاتی شوق اور ذاتی مطالعہ کے نتیجہ میں وہ کمال پیدا کیا کہ جہاں تک مذہبی مباحثہ اور اس میدان کے علمی حوالہ جات کا تعلق ہے وہ جماعت احمدیہ کے کسی موجودہ عالم سے کم نہیں تھے۔بلکہ مناظرات میں جوابوں کی فرادانی اور برجستگی میں انہیں گوریا ایک جیتی جاگتی انسائکلو پیڈیا کہنا چاہیے۔مرا اعتراض کا جواب ان کی زبان پر تیار کھڑا ہو تا تھا۔ہر ضروری حوالہ ان کے منہ سے اس طرح نکلتا تھا۔جس طرح ٹکسال کی مشین سے لگے بن بن کر نکلتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے۔یہ سب کچھ کسی درسی تعلیم کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ محض ذاتی شوتی اور ذاتی مطالعہ کا نتیجہ تھا۔میں نے ان کو مذہبی مناظرین کی صف اول میں لا کھڑا کیا تھا