تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 689
پہنچاتے تھے۔۶۴ آپ نہایت مخیر ، غریب پرور اور مثالی مهمان نواز بزرگ تھے آپ کے دستر خوان پر روزانہ ایک جماعت شامل ہوتی۔سید نا حضرت مصلح موعود اور خاندان حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السّلام کے ساتھ والہانہ عشق تھا جب آپ منصفی کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تو سیدنا حضرت مصلح موعود نے آپ کو وکالت کرنے کا ارشاد فرمایا۔ایک ایسے شخص کے لیے جو اسی عدالت میں ایک عرصہ دران تک بج رہا ہو بطور وکیل پیش ہونا عزت نفس کے خلاف سمجھا جاسکتا ہے لیکن آپ نے اپنے پیارے اور مقدس آقا کے ارشاد کی نہایت انشراح صدر اور خندہ پیشانی سے تعمیل کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس خلوص اور عقیدت کو بہت نوازا اور وکالت کا کام آپ کے لیے بہت نفع مند اور مفید اور ہا برکت ثابت ہوا آپ اردو زبان کے بلند باہم اور صاحب طرز ادیب اور عربی اور فارسی کے بھی جید عالم تھے طبیعت بہت فهمید، باوقار ادیہ سکھی ہوئی پائی تھی اور مطالعہ بہت وسیع تھائی حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب مرحوم کے قریبی عزیزوں میں سے اور اصل وطن قائم گنج ریوپی ، تھائیے آپ کے وصال پر اخبار صدق جدید" رکھنو) نے ۲۸ جون ۱۹۵۷ ء کی اشاعت میں یہ نوٹ شائع کیا۔دکن کی حیزب ۱۶/۱۵۰۴ جون کی درمیانی شب بلده حیدر آباد میں اکبر بار جنگ نے وفات پائی اور ار تجون کو مدفون ہوئے۔نام غلام اکبر خان تھا۔وطن قائم گنج ضلع فرخ آباد تھا۔مگر نو عمری ہی سے حیدر آبادی ہو گئے تھے اب سن سے کچھ اوپر ہی ہوگا ایک زمانہ میں نامور وکیل تھے۔پھر ہائیکورٹ کے حج ہو گئے۔چند سال ہوم سیکرڑی رمعتمد امور عامہ و تعلیمات و تعمیرات وغیرہ ) کے با اقتدار عہدہ پر فائز ہوئے صدق و مدیر صدق دونوں سے حسن ظن شروع سے قائم رکھے ہوئے تھے۔اپنی قانونی مہارت کے علاوہ اپنی فیاضی جهان نوازی اور خلق اللہ کی قدرت وحسن سلوک کے لیے ممتاز تھے۔قادیانی یا احمدی تھے۔لیکن علماء اہل سنت سے بھی گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے۔مولانا سید سلیمان ندوقی، مولانا مناظر حسن گیلانی، مولانا عبدالباری نددتی، اور ایمدان مدیر صدق پر بڑا اعتماد رکھتے تھے اور مشہور که پاره هرجون ۱۹۵۷ ء ما : له الفضل ٢٠ حجون، ١٩٥ ء صا