تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 686 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 686

کی مھتی ہے حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا کہ : - یہ جنازہ جو کہ خدا تعالیٰ کے موعود خلیفہ الصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتداء میں قریباً ستر ہزار مومنین نے ۲۸ دسمبر کو پڑھا اس پیارے وجود کا تھا جس کا دل سلسلہ کے اخلاص میں ڈوبا ہوا اور پر سرور اور چہرہ پر لور اور بشاشت سے بھر پور تھا۔یہ جنازہ شیخ عبدالحق صاحب۔۔۔۔۔۔۔کا تھا۔ہاں اس خوش قسمت انسان کا جس کے متعلق نمانہ ادا کرنے سے پہلے حضرت امام ایده اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ:۔یہ اس رفیق کا جنازہ ہے جس نے کئی نشان دیکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی مفتی ! ہمارا عبدالحق ہر طرح پیار کے لائق تھا کیونکہ اس کا دل محبت اور پیار سے پڑ رہتا تھا جین کی وجہ سے وہ اپنے دوستوں کو نہایت خندہ پیشانی سے ملتا اور بغل گیر ہوا کرتا تھا۔اس کی پر یکف نظر اس خاکسار پر پڑا کر تی تھی اس طرح کی باربار کی توجہ خاص نے میرے دل کو بھی محبت کرنے پر مجبور کر دیا اور میرا دل اس قدر فریفتہ ہوگا کہ ہر وقت اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا تھا۔حبیب یہ محبوب دل کی بیماری کی وجہ سے ربوہ سے باہر چلا گیا تو میں ان کے فرنہ ند ارجمند مولوی عبد الواحد صاحب سابق مبلغ ایران سے بار بار پوچھا کرتا تھا کہ شیخ صاحب کب ربوہ آئیں گے۔اور وہ کیوں یہاں ہی ہیں رہنے اور بار بار میں پیغام بھجوایا کرتا تھا کہ آپ یہاں آجائیں یہ ایک دن کی بات نہ معنی ایک بار کا تقاضا نہ تھا بلکہ دو سال بلکہ اس سے زیادہ عرصہ میں بیسیوں بار خیر و عافیت اور ربوہ تشریف لانے کے متعلق دریافت کیا کرتا تھا وہ اپنی شدت مرض کی وجہ سے ربوہ نہ آ سکے لیکن میرے خدا نے مجھے کراچی لے جا کہ فروری ۱۹۵۷ء ۱۹۵۷ء میں ان کی زیارت کرادی۔چونکہ پیاس بجھی نہ معنی۔اس لیے اس کے دو تین ماہ بعد میں نے مولوی صاحب موصوف سے پھر دریافت کرنا شروع کر دیا کہ شیخ صاحب کب آئیں گے۔تو ان کا یہی جواب ہو تا تھا کہ بھی کچھ پتہ نہیں اس پر میں ہمیشہ میں کہاکرتا شده در نامه العضل ۱۳ جنوری ۱۹۵۸ء م۵