تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 685
46۔-۱۹ حضرت شیخ نجد الحق صاحب سابق معاون ناظر ضیافت قادیان 19 وفات ۲۷ دسمبر ۱۹۵۷ء) آپ ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے وہاں کوئی گرلز سکول نہ تھا۔آپ کے خاندان کی کوئی آٹھ دس بچیاں تھیں جنہیں آپ نے خود قرآن شریف اور اس کا ترجمہ پڑھایا۔پانچویں جماعت کا پرائیویٹ امتحان دلوایا پھر آٹھویں جماعت کی تیاری کے ساتھ ساتھ حدیث ، فقہ اور سلسلہ احمدیہ کی کتا نہیں پڑھا نہیں۔آپ کی تبلیغ سے کئی سعیدے وچوں نے احمدیت قبول کی ، منکسر المزاج اور طیم الطبع بزرگ تھے گر عموما سلسلہ احمدیہ کے مسائل بیان کرتے وقت طبیعت میں جوش آجاتا اور آواز بلند ہو جاتی۔ایک بار آپ کے گاؤں کے ایک مولوی صاحب نے ایک رسالہ پنجابی نظم میں لکھا جس میں حضرت مسیح موعود کی شان اقدس میں گستاخانہ الفاظ استعمال کیے۔حضرت شیخ صاحب نے اس رسالہ کا جواب پنجابی نظم میں لکھا اور شائع کرایا۔آپ کی صاحبزادی عنایت بیگم صاحبہ کا بیان ہے کہ :۔: " وفات سے قریبا ہفتہ عشرہ پہلے اپنے بیٹے کو اور مجھے پاس بلاکر کہا خلافت سے وابستہ رہنا ماں باپ اولا دکو غلط راہ پر نہیں لگاتے۔میں نے معجزات دیکھتے ہیں۔اپنی آنکھوں سے صداقت دیکھی ہے خلافت کے بغیر ایمان کامل نہیں رہتا اور بہت سی نصیحتیں کیں اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے بہت دعائیں کرتے تھے نماز باجماعت ادا کرتے اور تہجد بھی پڑھتے تھے نیک مشورہ دینا۔بڑے کاموں سے روکنا نیک کاموں کی ہدایت کرنا لڑائی جھگڑا میں صفائی کرانا ذکر الہی میں مشغول رہنا ترتیب مسکین مسافروں کو کھانا کھلانا اور مہمان نوازه می ان کا شیوہ مقالے حضرت مصلح موعود نے ۲۸ دسمبر ۱۹۵۷ء کو جلسہ سالانہ کے سیٹ پر آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کا تذکرہ کرتے ہوے ارشاد فرمایا کہ یہ اس رفیق کا جنازہ ہے جس نے کئی نشان دیکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت له الفضل ، فروری ۱۹۵۸ء مث : کے یہاں "صحابی" کا لفظ تھا