تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 55 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 55

دنیا میں آتی ہے وہ جب تک پوری طرح قائم نہ ہو جائے اس وقت تک اسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔ایک موٹا اصول ہے۔جس کے خلاف دنیا میں کبھی نہیں ہوا۔دوسرے خدا تعالیٰ نے مجھے حضرت سیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض میں شامل کیا ہے۔اور گزشتہ انبیاء کی پیش گوئیاں اس بات کا ثبوت ہیں بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔آپ نے جہاں یہ فرمایا ہے کہ لو كَانَ الإِيْمَانُ مُعلِقاً بالثريَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ مِنْ هولاء بخاری کتاب التفسير سورہ جمعہ) وہاں آپ نے رجال کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے۔جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ در حقیقت ایک سے زیادہ آدمی ہوں گے جن کے ہاتھ سے یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔اس لئے وہ میرے نام کو تبھی مٹا سکتے ہیں جب اس کے ساتھ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام بھی مٹا دیں۔ایک غیر احمدی کے لئے تو یہ کیساں بات ہے وہ کہے گا ان کا نام بھی مٹ جائے۔مگر کم سے کم جو ہماری جماعت میں داخل ہو۔اسے یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام مٹ نہیں سکتا۔اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام مٹ نہیں سکتا۔تو اس قسم کا فتنہ میرے نام کے متعلق بھی پیدا نہیں کیا جا سکتا۔بہر حال یہ ایک اہم رڈیا ہے جو جماعت سے بہت زیادہ تعلق رکھتی ہے اس یہ ایک نہایت پر اصرار اور حقیقت افروز خواب تھی جس کے لفظ لفظ پر شہر کے واقعات نے مہر تصدیق ثبت کردی۔میاں عبدالوہاب صاحب نے اللہ رکھا کے ذریعہ پر ویگنڈا کی جو مہم چلائی اسے علم متغیر کے مطابق اشتہار دینا ہی کہا جائے گا۔اس مہم میں کہا گیا کہ چو ہدری لطف الله خالصاحب یا مرزا بشیر احمد صاحب کو خلیفہ بنا دیا جائے۔اور حضور کے ایک خواب مطبوعہ الفضل ٢٢ مئی ۱۹۳ ، صفحہ میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خالصاحب کے متعلق بنایا گیا کہ دہ روحانی طور پر آپ کے بیٹے ہیں اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مصلح موعود کے چھوٹے بھائی تھے اور چھوٹا بھائی بھی بیٹے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔خواب کے اس فقرہ کی تشریح میں کہ اس کی رشتہ داری میری بیویوں کے ذریعہ سے ہے مولوی عبد الرحمن صاحب انور کرا ٹویٹ سیکر ٹی نے پر وفیسر مرزا منظور احمد صاحب ایم۔ایں۔سی۔لیکچرار گورنمنٹ کالج ابیٹ آباد کا ایک اہم بیان شائع کیا جو پڑھنے کے لائق ہے یہ بیان ۲۷ جولائی ۱۹۵۶ء کو مرزا عبدالله جان ماله الفضل ۱۲ جولائی ۱۱۹۵۰ ۲۰