تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 669
۶۵۴ گئے ہیں موت تو سب کے لیے مقدر ہے مگر کاش قبل اس کے کہ یہ مبارک گر وہ اس دنیا سے منتقل ہو کہ اپنی بنتی رہائش کو موں میں جاگزیں ہو جماعت کی صحت روم ان کی نیکی اور تقوی اور عبادت گزار ی اور صداقت اور دیانت اور اتحاد اور تعاون اور جذ بہ قربانی میں ان کی جگہ لینے کے لیے آگے آجائے اسے کاش ایسا ہی ہوا مجھے یاد ہے کہ حبیب میں نے ۱۹۲۱ ء میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور معلومی کی وفات پر ایک نوٹ لکھا تھا تو اس نوٹ کے عنوان میں یہ شعر درج کیا تھا : ے یاران نیز گام نے محمل کو جالیا ہم مجھ نالہ عرس کار داں رہے لیکن اب تو ڈرتا ہوں کہ شاید ہم سے کئی لوگ محو نالہ بھی نظر نہیں آتے اسے اللہ تو رحم کر اور مالے نوجوانوں میں وہ روح پھونک دے جو ہمیشہ تیرے پاک نبیوں اور رسولوں کے زمانہ میں ایک زبر دست انجمن کا کام دیا کر تی ہے اور نہیں صرف چلنے کی ہی طاقت ہی نہ دے بلکہ پرداز کی قوت عطا کہ - امین یا ارحم الراحمین۔حضرت عرفانی صاحب اپنے آخری خط میں جو غالباً ۲۹ نومبر کا لکھا ہوا ہے اور مجھے ہر دسمبر کو ملا لکھتے ہیں کہ سنہ آج عمر کا ۹۲ سال شروع ہوا۔الحمد للہ خاکسار - مرزا بشیر احمد - ۷/۱۲/۵۷ - ربوه شه خالد احمد بیت مولانا ابوالعطاء صاحب نے لکھا کہ :۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک درخشندہ گوہر ہیں رہتی دنیا تک آپ کا ذکر خیر باقی رہے گا آپ نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو شناخت کیا حیب ابھی کم تعداد میں سعید رہ دنوں کو اس شناخت کی توفیق نصیب ہوئی آپ کو پھر اولین فضاء میں یہ لی روزنامه الفضل ربوه ۱ار دسمبر ۱۹۵۷ء صفحه ۴٫۳