تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 667
HO میری نہ ندگی ختم ہو بیٹے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت عرفانی صاحب کے وصال پر حسب ذیل نوٹ سپر و قلم فرمایا۔عرفانی صاحب جو اوائل میں تراب لقب استعمال کیا کرتے تھے۔غالباً اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زندہ رفیق میں سب سے پرانے رفیق تھے اور گردہ ایک لمبے عرصے سے بیمار تھے مگر یہ خیال نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی داغ جدائی دے جائیں گے چنانچہ ان کی وفات، والی تار سے صرف ایک دن پہلے ہی مجھے ان کا ہاتھ کا لکھا ہو اخط ملا تھا۔شیخ صاحب موصوف کی عمر وفات کے وقت غالباً ۹۰ سال سے اوپر تھی اور گو ان کی سماعت میں کانی فرق آگیا تھا۔گر مینائی ٹھیک تھی چنانچہ وہ ہمیشہ ہاتھ سے خط لکھا کرتے تھے اور ان کے خطوں میں بے حد محبت اور اپنایت کا رنگ پایا جاتا تھا در اصل وه ان بزرگوں میں سے تھے جن کے ایمان کی جڑھ ان کے دل میں ہوتی ہے اور فلسفیا نہ دلائل کی نسبت جذبات کا پہلو زیادہ غالب ہوتا ہے۔شیخ صاحب مرحوم سب سے پہلے احمدی تھے جنہوں نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کی عرضن سے اختبار المحکم جاری کیا۔یہ اخبار شرو ع میں غالباً امرتسر سے جاری ہو انگر بہت جلد قادیان منتقل ہو گیا اور پھر شیخ صاحب خود بھی ہمیشہ کے لیے قادیان کے ہی ہو گئے اس کے کچھ عرصہ بعد اعتبار مدد بھی جاری ہو گیا۔جس کے آخری ایڈمیر حضرت مفتی طمرد صادق صاحب مرحوم تھے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام ان دو اخباروں کو اپنے دو بازو کہ کر یاد فرمایا کرتے تھے۔شیخ عربانی صاحب مرحوم کی دوسری بڑی خصوصیت یہ تھی کہ سب سے پہلے اپنی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ مرتب کرنے کا خیال پیدا ہوا چنا نچہ ان کی طرف سے اس سلسلہ میں متعدد نمبر نکل چکے ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خطوط کو جمع کر کے مکتوبات احمدیہ کے نام سے شائع کرنے کی سعادت بھی شیخ صاحب مرحوم کو ہی حاصل ہوئی۔تاریخ بیعت کے لحاظ سے شیخ صاحب غالباً حضرت مفتی حمد صادق سے بھی زیادہ پرانے تھے۔حق گوئی میں حضرت شیخ صاحب بہت دلیر اور صاف گو بلکہ برہنہ تلوار تھے۔چنانچہ جب مشروع که روزنامه الفضل ربوه دار و تمبر ۶۱۹۵۷ ص ۳