تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 660 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 660

۶۴۵ مسیح موعود علیہ اسلام اور خلیفہ المسیح کا ہر مذہب تھا وہ کھل گیا۔۱۴- اس اثناء میں ایڈ سیر الحکم نے چاہا کہ بالکل گمنامی کی حالت میں تبلیغ اسلام کا کام کر سے مگر دہ اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوا اور بعض وجوہات کی بناء پر اسے واپس آنا پڑا۔۱۵۔غرض بہت سے کام ہیں جتنے کرنے کی خدا تعالٰی نے اسے توفیق دی منجملہ ان کے ایک اور کام کا نہایت ہی احتمالی رنگ میں ذکر کرتا ہوں کہ شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی مہدویت کی وجہ سے بعض علماء اور پولیس کے ناتجربہ کار لوگوں نے ہمارے سلسلہ کو ایک خطرناک سلسلہ قرامہ دیا تھا اور گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لیے کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا گیا۔مگر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایڈیٹر الحکم کو موقع دیا کہ وہ اس پہلو سے اپنے سلسلہ کی خدمت کر سے چنانچہ ایسے اسباب میسر آ گئے جن کے ذکر کی ضرورت نہیں کہ وہ سلسلہ کے پولیٹیکل پوزیشن کو صاف کرنے کے کام میں پایونیر ثابت ہوئی۔۱۹۔قادیان کے مقامی ضرورتوں کے متعلق اس کی راہیں مستند در قابل لحاظ قرار دی گئیں چنانچہ قادیان کے ڈاکخانہ کی اصلاحوں اور ترقیات میں اس کے قلم اور دماغ کو بہت دخل ہے۔ایسا ہی قادیان کی نوٹیفائیڈ ایریا کا وجود الحکم کے کوششوں کے معمولی نظرات ہیں جو خدا کے فضل سے ملے۔اگر میں ان کاموں کی تفصیل کرنے لگوں تو ایک کتاب تیار ہو جائے۔مختصر یہ کہ جس طرح پر سلسلے کی خدمت کا موقعہ ملا۔الحکم کرتا رہا اور کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔جب تک خدا تعالیٰ کا فضل چاہے گا۔مدرسہ احمدیہ کے قیام اور مدرسہ تعلیم الاسلام کی اصلاح کے موقعہ پر بھی میں نے پر جوش حصہ لیا۔اس تمام کام کو آج تک بغیر کسی نمائش کے کیا۔جہاں میں نے اپنی آزادی رائے کا ذکر کیا ہے وہاں اگر میں یہ بیان نہ کر دوں کہ اپنی غلط راؤں کی اصلاح کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہوں تو یہ ذکر ناقص رہ جائے گا۔۱۹۰۹ ء میں مجھے بعض اسلامی کاموں کے لیے دہلی جانا پڑا۔دہلی میں رہ کر میں نے صداقت اسلام پر لیکچر دیئے اور وہاں انجمن خادم المسلمین قائم کرنے میں عملی حصہ لیا اور دیا نند مت کھنڈن سمجھا قائم کی۔بلکہ بعض مکرم دوست چاہتے تھے کہ تبلیغ الاسلام علیگڑھ کا ہیڈ کوارٹر دہلی کو دیا جا سکتا ہے۔بشرطیکہ تم کام کرنا چا ہو۔اس وقت میرے خیال میں آیا کہ اگر ایسے لیکچر ہوں جن میں سلسلہ کا قطعاً ذکر نہ ہو تو مفید ہیں۔بلکہ اس تجویز پر دہلی کے بعض علماء نے مجھے کہا کہ فتوی کفر واپس ہو جائے گا میں نے اس تجویز کو علی سمجھ کر اخبار میں لکھا اور اس پر عملدر آمد کے