تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 657 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 657

۶۴۲ جب تو کلت علی اللہ یہ آغا نہ کیا پر نکل آئیں گے ا ور دیکھنا پر دانہ کیا خدا تعالیٰ نے اپنے محض فضل سے الحکم کو ایک مذہبی اخبار کی حیثیت سے کامیاب کر دیا اب ایڈیٹر الحسکم کی خدمات کا دائرہ احمدیت کے مرکز پر کھینچا گیا۔اس دائرہ میں گردش کرتے ہوئے بھی ایڈیٹر الحکم پر وہ زمانہ نہیں آیا اور آئندہ خدا کے فضل سے امیدوار ہوں کہ نہ آئے جبکہ اس نے کسی خوب اور لالچ کیوجہ سے اپنی آواز کو میر کے خلاف دبانا چاہا ہو بلکہ ایڈیٹر الحکم نے ہمیشہ اپنا مائو یہ رکھا ہے۔لکھنا ہے تو مت ڈر۔ڈرتا ہے تو مت لکھ قادیان میں اڈ بیٹا اسکم جنوری ۱۸۹۸ء میں آگیا۔اور چیہ اخبار کے ساتھ جو جدید تعلق پیدا کر لیا گیا تھا اسے اور لاہور کے دیگر منافع کو قادیان پر قربان کر دیا۔اور الحمد للہ میں اس سودے میں نفع مند ہوں۔مدرسہ کا انتظام ابتدائی حالت میں تھا۔جو لوگ کسی انسٹی ٹیوشن کو چلانے کے کام سے واقف ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایڈیٹر الحکم کو مدرسہ کی ابتدائی حالات میں کن مشکلات سے گزرنا پڑا ہو گا۔طبیعت میں حریت معنی۔بعض اوقات مدرسہ کے ناظم سے اختلاف ہو جاتا آخر جب ا مدرسہ چل پڑا تو میری فرمن چونکہ لازمست تو تھی نہیں اس لیے میں نے حضرت مولو من عبد الکریم صاحب کے مشورہ کے ماتحت مدرسہ سے علیحدہ ہو کہ صرف اختبار کے کام کی طرف توجہ کی۔قادیان میں اس وقت پریس کی سخت تکالیف تھیں نہ پریس ملتا تھا نہ کل کشش اور نہ کا تب اور نہ یہ لوگ قادیان آ کر رہنا چاہتے تھے۔تاہم اڈیٹر محکم ان مشکلات کا مقابلہ کر تا رہا۔اسی اثنا میں الحکم نے بٹالہ کے سب انسپکٹر کے اس رویہ کا نوٹس لینا چاہا جس کا برا اثر رعایا پر پڑ رہا تھا۔اس نے اپنے اعلیٰ افسر کو بھڑکا کہ چاہا کہ ایڈیٹر الحکم پر کوئی مقدمہ بنا دے مگر میری طبیعت ان گیڈر بھبکیوں سے ذرا خائف نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک معاملہ پہنچا۔بعض لوگوں نے رائے دی کہ چند روز کے لیے اڈیٹر الحکم قادیان سے باہر چلا جائے حضرت مسیح موعود علیہالسلام انے اس رائے کو اور پسند ہی نہیں کیا تھا مگر اصرار پر کہ دیا کہ اگر ہی مصلحت ہے تو حرج نہیں۔لیکن یں نے اس رائے کی کمزوری پیش کی تو آپ نے بڑے جوش سے میری تائید کی بالا خہ اس سب انسپکٹر کو اپنی طاقت کا اندازہ معلوم ہو گیا۔اور اس نے اپنے منصوبوں کو خاک میں ملتے دیکھ کہ ایڈیٹر