تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 655
پنی بات پر ایسا اصرار ہو چکا تھا کہ باوجود ان کی بے حرمہر بانیوں کے میں اس وقت ان کے ساتھ نہیں مل سکتا تھا فیروز کی ایڈیٹی کے ایام میں پریس کانفرنس کی تحریک منشی محبوب عالم صاحب نے کی مگر میں نے بحیثیت ایڈیٹر فیروز پریس کانفرنس پر جو سلسلہ مضامین کا لکھا وہ اس وقت تک اس زمانہ کے مشہور اور قابل قدر اخبارات آزاد اور زمانہ کانپور کے صفحات میں عزت کے ساتھ لیا گیا اور اس کی تائید ہوئی۔پنجاب کے پریس میں ایڈیٹر الحکم رحجہ اس وقت ایڈیٹر فیروز تھا) اکیلا تھا جس نے جمرات کے ساتھ پریس کانفرنس کے حسن وقیع پر روشنی ڈالی اور پیسہ اخبارہ کی کثیر الاشاعتی اور اثر کے سامنے اپنی آواز کو نہ دیا یا یہی آواز اور صغیر کا سوال تھا جس نے مجھے شیخ فیروز الدین صاحب ایسے شریف الطبع بزرگ سے افسوس کے ساتھ الگ ہونے دیا امرتسر کی میون پلٹی کے ماتحت محکمہ جنگی میں عین ہو چکا تھا اور ایک لاکھ سے زیادہ کا عنبن ثابت کہ دیا گیا تھا اس خاص کام کے لیے ایک اخبار آہلو والیہ گنٹ رجو اب تک جاری ہے، میری آیڈیٹری میں نکلا اور امرتسر کے تمام واقف کار لوگ جانتے ہیں کہ اسے میں ایڈٹ کر رہا تھا کیونکہ امرتسر کی سنجیدہ پبلک جو اس معاملہ میں میرے تھے تھی وہ جانتی تھی اور یقین کرتی تھی کہ کوئی لالچ اور خوف میرے قلم کو روک نہیں سکتا تھا چنانچہ بڑے بڑے مخفی بھید ظاہر ہوئے اور بالآخر میونسپلٹی کے سیکر ڈی آنجہانی مسٹر نکل کی طرف سے ایک ہزار روپیہ رشوت کا پیغام مجھے دیا گیا تا کہ میں ضمیر فروشی کر کے چپ ہو جاؤں۔مگر نیکی اور بھلائی کے فرشتوں نے میری تائید کی اور ایک نے میر فروشی کو ایک لعنت سمجھ کر ہزار روپیہ پر تھوک دیا۔یہ ایک وقت تھا جو میرے لیے اس پیشے میں امتحان کا تھا۔اور خدا کے فضل سے میں کامیاب ہوا بالآخر وہ میونسپلٹی کے عین کا سکینڈل آخر کار پبلک کی بہترین خواہشوں کے ساتھ ختم ہوا۔اور میں نے بھی کمیٹی کی مخالفت بلا وجہ کرنی چھوڑ دی۔اس اثناء میں اور بھی بہت سے کام کرنے پڑے امرتسر کی پریس سوسائٹی کی بعض نقائص پہ آزادانہ نکتہ چینی کی اور جب سوسائٹی کی قابل قدر خدمات کو اصلاح کی بہترین اصولوں پر چلتے دیکھا تو اس کے کام میں عمل ہمدردی میرا کام تھا اور اس وقت تک جو لالہ نند لال صاحب کی خدمات کا دل سے معترت ہوں۔امرتسر کے قیام میں ایک اور رنگ میں بھی مجھے سرکاری خدمات کا موقعہ ملا۔مسٹر نکل نے میری درخواست کے بددن بعد میں جبکہ کمیٹی کے حالات درست ہو چکے تھے میری اس آزا د نکتہ چینی