تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 654
۱۳۹ فروری ۱۸۹۲ ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لے گئے تو میں نے حسب دستور بیعت کر لی اور لاہور کے تمام حالات کو آنکھ سے دیکھا اور بعض جگہ نہایت جرات کے ساتھ آپ کے سلسلہ کی تبلیغ کی اور ماریں کھائیں۔یہ جوش اس درجہ تک بڑھ گیا تھا کہ سلسلہ تعلیم کا جاری رکھنا میرے لیے مشکل ہو گیا تھا اگر یہ میرے بزرگ چاہتے تھے کہ میں کالج کی تسلیم کا کورس ختم کر لوں مگر حمدیت کی تبلیغ کا شوق مجھے اور طرف سے نکلا۔حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر جو اس وقت سلسلہ احمدیہ سے الگ ہے ان ایام میں سلسلہ کا ایک سرگرم اور پر جوش ہمدرد تھا اگر چہ اس نے بیعت نہ کی تھی۔وہ رکھا نوالہ مضلع قصور میں ضلعدار تھے اور اگر قصور جاتے تو مولوی غلام دستگیر قصوری انہیں تنگ کرتے اس غرض کے لیے کہ میں سلسلہ کی اعانات کروں مجھے اپنے ساتھ لے گئے ہیں اس خیال اور وہم سے گیا بھی نہیں تھا۔کہ سرکاری ملازمت کروں گا مگر انہوں نے مناسب سمجھا کہ میرا نام محکمہ نہر میں برائے نائب ضلعد اران داخل کر دیں چنانچہ ان کی کوشش اور سید فتح علی شاہ صاحب کی توجہ سے ہیں اس مقصد میں کامیاب ہو گیا گھر ۱۸۹۴ء کے جولائی میں ہمیشہ کے لیے ملازمت کے خیال کو سر سے نکال کر اور اپنے دل سے عہد کر کے ا که آئندہ اخبار نویسی کروں گا میں نے ابن ضلع امرتسر کی کو بھی پر ان تمام امیدوں کا خاتمہ کر دیا اور ڈپٹی کلکڑی اور خان بہادر ی کی صورت میں میرے سامنے آئی تھی۔اور میں قلم کے ذریعہ اہل ملک کی خدمت کے لیے متن تیار ہو کہ ۱۸ اور 19 برس کی عمر کے درمیان امرتسر آ گیا۔اب اخبار نویسی میر مستقل کام ہو گیا اور میں نے اس کو ریا من ہند امرتسر کے مکرر اجراء اور سے احیاء سے شروع کیا۔مگر ریاض ہند کے پر دیر الٹر صاحب با وجود دیکہ میرا ان پر کوئی بار نہ تھا زندہ نہ رکھ سکے اسی اثناء میں اختبار فیروز شیخ فیروز الدین صاحب آزیری مجسٹریٹ امر تسر نے جاری کیا اور میں اس کا پہلا اور آخری ایڈیٹر مقرر ہوا۔اخبار فیروزہ ایک کامیاب اخبار تھا اور پیسہ اخبارہ کا بہترین مقابلہ اپنی قیمت اور مضامین کے لحاظ سے کرتا تھا اس وقت کی اردو اخبار نویسی میں وہ بہترین اضافہ سمجھا گیا۔مگر بعد میں مجھے شیخ فیروز الدین صاحب سے ایک مقامی معاملہ کے متعلق اختلاف کرنا پڑا اور میں نے فیروز کو چھوڑ دیا۔میاں صاحب نے بھی پھر میرے بعد نیوز کو باوجود ایک عمدہ اور کامیاب اخبار ہونے کے چلانا نہ چاہا اور کہا یا تم اس کو ایڈٹ کر دور نہ میں بند کر دوں گا ، مگر مجھے