تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 653 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 653

۶۳۸ لاہور کی اس دو سالہ زندگی میں میرا اعتباری مذاق بہت بڑھ گیا۔پیسہ اخبار کے خریدار کی حیثیت سے میرا تفادت منشی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار سے ہوا اور پھر یہ تعارف تعلقات کے بڑھنے کا موجب ہوا۔منشی محبوب عالم صاحب نے مجھے اپنے چھوٹے بھائی میاں عبدالرحیم اور میاں عبد الکریم کی تعلیم کے لیے میرے ایام طالب علمی ہی میں مجھے مقرر کر دیا۔میں نے یہ خدمت محض اس لالچ سے قبول کی کہ مجھے کثرت سے اخبار پڑھنے کو ملیں گے۔چنانچہ میں اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گیا اور تھوڑے ہی دنوں کے بعد میں اس خدمت سے الگ ہو کہ انگریزی اخبارات اور خصوصاً ولایت کے رسالہ ٹٹ بٹس (TiT Bi Ts) کی کہانیوں کے ترجمہ کا کام کرنے لگا۔پس میری اخبار نویسی کا مدرسہ پیسہ اخبار کا دفتر ہے۔منشی محبوب عالم صاحب ہمیشہ میرے ساتھ یہ تکریم پیش آتے تھے۔انہیں ایام میں مشہور اکٹر بیسٹ صوفی ابنا پر شاہ پیسہ اخبار میں کام کرتا تھا اور ایک مولوی غالبا ستبد احمد صاحب پاس لکھنوی پیسہ اخبار میں نادلسٹ تھے جنہوں نے مرد بران وغیرہ لکھے تھے۔پیسہ اخبار کو لاہور آئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا محتا اور وہ اردو اخبار نویسی میں نئی روح پھونک رہا تھا پیسہ اخبار ہی کے دفتر میں میں باقاعدہ احمدی ہو گیا اور اس دو سال کی طالب علمی کے زمانہ میں لاہور کی تمام مذہبی سونٹیاں مجھ سے واقف ہو گئیں کیونکہ میں ان کے جلسوں میں با قاعدہ جانے والا اور نظر یہیں اور مباحثہ کرنے والا تھا۔اس زمانہ کے آریہ سماج دیو سماج اور عیسائی مشن کے لوگ اب تک ان حالات کے جاننے والے ہیں۔اخبار نویسی کے ساتھ دوسرا شوق مذہبی تقریروں کا تھا۔چنانچہ انہیں ایام طالب علمی میں عیسائیوں اور انار کلی چیپل میں جہاں سنگھ باغ ہیں اور پادری گہرے کی کو ٹی پر گھنٹوں مانے کر تا بلکہ اہل پنجاب کے لارڈ بشپ صاحب سے جو ان دنوں محض ریونیڈ لیفر ائے تھے اور دہی سے لاہور لیکچر دینے آئے تھے تین دن رنگ محمل میں مباحثہ کیا جس کے لیے میرے استاد خلیفہ حمید الدین صاحب مرحوم نے ماسٹر چند و لال صاحب کی درخواست پر منتخب کر کے بھیجا تھا۔اور آریہ سماج کے جلسوں پر سوالات که تا دیو سماج کے مندر میں جا کہ انجمن تحقیق میں حصہ لیتا۔اس وقت میرے پرانے واقفوں میں سے پنڈت دیورتن اور سردار امر سنگھ صاحب اور موہن لال صاحب موجود ہیں۔انار کلی میں روزانہ لیکچر اور رات کے ایک ایک بجے تک مباحثہ کے اکھاڑہ لگانا معمولی بات تھی۔