تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 652 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 652

ندسی شوق ترقی کر گیا۔اور اخباری مذاق نے اخبار نویسی کی صورت اختیار کر لی۔میرے وقت کا بہت بڑا حصہ عیسائیوں سے مباحثہ میں گزرتا اور ان کی کتابیں پڑھنے کا شوق دن بدن ترقی کرتا گیا اور نورانشان کے اڈیٹر مسٹر حسن علی سفیر کی وجہ سے اخبارات کے پڑھنے کا بہترین موقعہ ہاتھہ آیا:- منشور محمدی اور خود نور افشاں میں مضامین لکھ دنیا ایک دفعہ نور افشاں میں ایک مناظرہ شروع کہ دیا جو بالآخر با دری نیوٹن صاحب نے بند کر دیا۔اب میری توجہ تسلیم کی طرف کم ہونے لگی۔اور اختیاری اور مذہبی مذاق ترقی کرنے لگا۔عیسائیوں کے مناظرات سے پھر آریہ سماجیوں سے مناظرہ کرنے کا شوق پیدا ہوا۔چنانچہ اس زمانہ کے میرے بعض دوست لاله بطور رام نیر اور لالہ مرلی دھر صاحب لدھیانہ میں موجودہ تھے اور لالہ چر پنچی لال مشہور آمد یہ اپدیشک فوت ہو چکا ہے۔یہ زندگی مجھے بہت عزیز تھی۔انہیں ایام میں یعنی ۱۸۸۹ء میں پہلی مرتبہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کا شہرت حاصل ہوا۔شیخ اللہ دیا صاحب داعظ انجمن حمایت اسلام نے مجھے پیش کیا اور میرے سنسکرت پڑھنے کا ذکر کیا۔میں کوشن کہ حضرت بہت خوش ہوئے اور ہر قسم کی مدد کرنے کا وعدہ فرمایا۔حضرت صاحب کو پہلی مرتبہ یہاں ملا۔گھر آپ کی کتاب بر امین احمدیہ ۱۸۸۶۷ء میں چوہدری رستم علی خان مرحوم کے ذریعہ دیکھ چکا تھا۔جب کہ وہ سارجنٹ تھے۔گو اس کتاب کے سمجھنے کی اس وقت قابلیت نہ تھی تاہم پڑھنے کا شوق بے حد تھا۔عرض ۱۸۸۹ء سے لے کر ۱۸۹۱ء کے شروع تک میں نے لدھیانہ رہ کر اس مذاق کو بہت بڑھا لیا۔اور اب یہ اس درجہ تک پہنچ گیا کہ مجھے مدرسہ سے علیحدہ کر دے چنانچہ ۱۸۸۹ء میں پیسہ اخبار کا خریدار ہو چکا تھا۔جو اس وقت آج کل کے روزانہ پیسہ اختیار کی تقطیع پر شائع ہوتا تھا۔۱۸۹۱ ء میں انگریزی مڈل پاس کر کے لاہور کے ماڈل سکول میں پہنچ گیا قیام لدھیانہ میں منشی احمد جان صاحب مرحوم کے مریدوں نے ایک انجمن احمد یہ بنا کر اس کے ماتحت ایک رسالہ انوار احمدیہ عیسائی مذہب کی تردید اور اسلام کی تبلیغ کے لیے شائع کرنے کا انتظام کیا ہوا تھا میرے مذہبی اور اخباری ہونے کی وجہ سے اس رسالہ کا ایڈیٹر مجھے منتخب کیا گیا۔مگر بعد میں وہ رسالہ بعض اسباب کی وجہ سے شائع نہ ہو سکا۔لاہور میں یہ شوق جو تر قی کر سکتا تھا۔وہ ظاہر ہے اب تعلیمی زمانہ کا خاتمہ تھا آخر ۱۸۹۳ ء میں انٹرنس پاس کر کے تعلیمی سلسلہ کو ختم کر دیا