تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 651 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 651

۶۳۶ والد صاحب جب قادیان تشریف لائے تو ایڈیٹر الحکم ماں کے پیٹ میں تھا۔اور میرے پیدا ہونے کی خبر والد صاحب کو جنگی شاہ ایک مجذوب نے قادیان ہی کے مقام پر دی تھی۔جس نے یہ کہا تھا کہ تیرا یہ بیٹا قادیان میں رہے گا اور ایک اہل اللہ کے ساتھ اس کا تعلق ہوگا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے وہ موقعہ مجھے دیا اب میں قادیان میں ہوں اور خدا ہی کے فضل سے اس کے مامور ومرسل کا ادنیٰ خادم ہوں۔میری پیدائش ۱۸۷۵ ء کی ہے۔میری تعلیم ایک دیہاتی مدرسہ سے شروع ہوئی اور نومبر ۱۸۸۱ء کو میں مدرسہ میں داخل ہوا یہ خدا کے فضل کی بات ہے کہ میں مدرسہ میں اپنی جماعت میں اول رہا کرتا تھا پر امری کی چومتی جماعت میں پہنچتے پہنچتے مجھے مذہبی تعلیم اور مذہبی مسائل پر گفتگو کرنے کا شوق پیدا ہو گیا۔اور یہ مشوق ابتدا شیعہ اور سنی کے اختلافات سے پیدا ہوا۔اس راہ میں میرے راہنما مولوی غلام قادر صاحب مدرس تھے جو آجکل اسی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں۔وہ میر می مذہبی زندگی اور اخلاقی حالت کو خوب جاننے دائے ہیں۔پرائمری کا امتحان میں نے تعریف کے ساتھ پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا۔اس کے بعد مجھے ور نیکٹر مڈل سکول کا کورس ختم کرنے کے لیے مڈل سکول بھیجاگیا۔اور یہ پہلا موقعہ تھا کہ میں بورڈنگ میں رکھا گیا۔اس امر کی پرواہ نہ کر کے کہ یہ خود ستائی ہو گی مڈل سکول میں بھی ایک ہوشیارہ اور ہونہار طالب علم کی حیثیت سے میں رہا اور بورڈنگ کے انتظامی معاملات عموماً میری رائے اور مشورہ سے طے ہوتے مذہنی شوق اور بھی ترقی کر گیا ان ایام میں میں ایک دعا کیا کرتا تھا کہ یا الہ صحابہ کی سی خدمت دین کرنے کا موقع دے اور ایسی جماعت میں رہنے کی توفیق دے جو ھما بیت اسلام کا جوش رکھتی ہو ئیں اب یقین رکھتا ہوں کہ دعا قبول ہوگئی اور استاد میری قدر اور ممتحن صاحبان نے وقتاً فوقتنا بہترین راہیں مدرسہ کی کتابوں میں لکھیں۔اس بڈل سکول کی تعلیم میں مجھے سنسکرت پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔چنانچہ صرف نو پینے کے اندرمیں نے مڈل سکول کی سنسکرت کا کورس ختم کر لیا اور یونیورسٹی کے مڈل امتحان میں تعریف در بھی اور وظیفہ لے کر کامیاب ہوا۔سنسکرت میں بھی پاس ہو گیا یہ زمانہ ۱۸۸۶ء سے لے کر ۱۸۸۸ء تک ختم ہو گیا۔اس وقت میں مضمون نویسی میں ممتاز تھا۔اور اخبار بینی کا مذاق بڑھ رہا تھا اخبارات میں مضمون بھیجنے کا شوق ہوتا جاتا تھا۔چنانچہ جالندھر کے آفتاب سہند میں کبھی کبھی لکھتا تھا۔در نیکلر مڈل کی تعلیم ختم کر کے میں لدھیانہ کے بور ڈسکول میں داخل ہو گیا یہاں پہنچ کر میرا