تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 650
۶۳۵ حضرت عرفانی الکبیر اپنی خود نوشت سوانح میں تحریر فرماتے ہیں :۔میرا نام یعقوب علی اور میرے والد کا نام محد مسلی ہے۔لدھیانہ کے محلہ جدید میں منشی احمجان مرحوم مشہور و معروف صوفی اور اہل اللہ کے جوار میں رہنے کا ہمیں فخر رہا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس وقت بھی منشی احمدجان مرحوم کی اولا داور یہ خاکسار نہ صرف ہم شہر ہم سایہ ہیں بلکہ درمان طور پر ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں یعنی حضرت مسیح موعود میں ہو کر کھالی ہیں اور قادیان میں حجرت کر کے آبا د ہو چکے ہیں۔اور میں دیکھتا ہوں کہ لا يشقى جليسهم بالکل سچا ارشاد ہے۔دنیا دار لوگ اپنے نسب پر فخر کرتے ہیں۔مگر اس زمانہ میں سب کی باتیں جو حقیقت رکھتی ہیں وہ ظاہر ہیں۔جن لوگوں نے قوموں کے خروج را اقبال اور ادبار و زوال کی تاریخیں پڑھی ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ قومیں کس طرح بگڑتی اور کس طرح بنتی ہیں اس لیے میں ان مختصر حالات میں اپنے نسبی جھگڑے کو چھوڑتا ہوں یر کند کرد که : بنده عشق شدی ترک نسب کن جاتی کہ دریں راہ فلاں ابن فلان چیزی نیست مجھے تیس بات پر سجا فخر ہے وہ یہ ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موعود مسیح اور مہدی کو شناخت کیا اور میری زندگی میں ہی عجیب بات ہے اور یہ اور بھی عجیب ہو جاتی ہے جب کہ ناظرین کو معلوم ہوگا کہ میرے خاندان کو حضرت مسیح موعود کے خاندان سے اس وقت تیسری پشت کا تعلق ہے بلکہ چوتھی کا۔میرے دادا شیخ سلطان علی صاحب ان ایام میں جب کہ عالی جناب مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد بزرگوار کشمیر میں تھے جناب نواب امام الدین خالصاحب مرحوم کے باڈی گارڈمیں سے تھے۔مرزا صاحب قبلہ جن ایام میں واپس تشریف لے آئے انہیں دنوں کے قریب میرے دادا صاحب واپس چلے آئے اور ضلع جالندھر میں بعض اسباب کی بنیاد پر توطن اختیار کیا۔ضرورتوں کے لحاظ سے مہندی پڑھانے والے معلم تھے۔قادیان میں ایک زمانہ تک تعلیم دیتے رہے ان ایام میں حضرت مسیح موعود اپنی ریا منت اور گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرتے تھے اور جناب مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کشمیر کی واقعیت کی بناء پر دال صاحب پر ہمیشہ مہربانی فرماتے تھے اور ایک دو مرتبہ میرے دادا صاحب بھی انہیں ملنے کے لیے اس تقریب سے حاضر ہوئے تھے