تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 649 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 649

بڑی مخالفت لازمی ہے تمہارا اپنی زندگیوں میں ایک ہی فرض ہے کہ خلافت سے وابستہ رہ کر اس کی حفاظت کر دو اور اپنے آپ کو مٹاکر بھی اس مقصد کو پالو گے تو سب کچھ تمہارا ہے۔خلافت تمہاری دنیا میں ایک ہی متاع ہے۔میں خدا کے فضل اور رسم سے ہمیشہ خلافت کا خادم رہا ہوں۔اور ایک بصیرت کے سا تھے اس حقیقت کو سمجھتا ہوں کہ خلافت ہی خدا کی تجلیوں کا مظہر ہے۔حضرت محمود کی شکل میں وہ اولوالعزم آیا ہے جو خدا تعالیٰ کے نزول کا مظہر ہے جو لوگ اب تک اسے ایک معمولی انسان یقین کرتے ہیں وہ غلطی یہ ہیں وہ ان تمام بشارتوں کا مصداق ہے جو مصلح موعود کے لیے ہوئی ہیں بسلسلہ عالیہ ترقی کرے گا اور خدا تعالٰی کے وعدے پورے ہوں گے لیکن وہ بڑا بد قسمت ہے جو اس خلافت سے وابستہ نہ رہے۔اب تمام سعادتوں اور ساری یہ کتوں کا ہی ایک ذریعہ ہے کہ خلافت کے دامن کو مضبوط پکڑ لو میں آخر میں پھر اپنے دوستوں۔واقف کا سوں اپنے عزیزوں اور بچوں سے کہتا ہوں کہ یہ عظیم حجم الشان خلافت ہے۔اس کے ساتھ بڑی بڑی مشکلات بھی لازمی ہیں مگر اس کے برکات اور مرات، ایسے ہیں کہ آج نہ آنکھ دیکھ سکتی ہے اور نہ کان سن سکتے ہیں نہ کسی قلب میں گزر سکتے ہیں اس لیے اس قیمتی متاع کے لیے اپنی ساری طاقتوں ہمتوں اور مالومات کو قربان کرو۔اگر تمہیں اپنے بزرگوں۔دوستوں رستہ داروں اور اولاد سے قطع کرنا پڑے یا اموال سے جدا ہونا پڑے تو یہ سب کچھ دے کر بھی اگر تم اس سے وابستہ رہے اور اس کی حفاظت میں کسی خطرہ کی پرواہ نہ کی تو یاد رکھو تم نے سب کچھ پا لیا میں نے اپنا فرمن ادا کر دیا ہے۔اور میں محمد للہ اس معرکہ میں اپنے دل سے اس فیصلہ میں متفق ہوں الفضل در جولائی ۳۷ وار) صحافت کے علاوہ تفسیر قرآن اور تالیف و تصنیف کے کام کے ساتھ بھی آپ کو بے حد شغف تھا ہو تادم آخر جاری رہا۔عرصہ دراز سے آپ سکندر آباد دکن میں رہائش پذیر تھے۔چنانچہ وہاں بھی پیرانہ سالی اور منعف کے باوجود آپ وفات تک دینی اور تبلیغی کتب تصنیف کرنے میں مصروف رہے آپ نے درجنوں کی تعداد میں کتابیں تصنیف فرمائیں اس طرح آپ نے نہایت قابل قدر لٹریچر اپنی یاد گار چھوڑا ہے آپ کی بعض تصنیف کردہ کتا کے سلسلہ کے لڑیچر میں تاریخی لحاظ سے بنیادی اہمیت حاصل ہے تے له روزنامه الفضل ربوه ١٣ فروری ١٩٥٨ ء م : له الفضل داده ۱۸ دسمبر ١٩٥٧ء مراوه