تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 633 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 633

YIA صاحب اور حضرت ڈاکٹر کرم الہی صاحب مرحوم کے ذریعہ ہوا۔آپ حضرت ڈاکٹر قاضی کرم الہی صاحب کے مکان سے نطقہ مکان کے ایک حصہ میں دوسری منزل پر کہا یہ پہ رہتے تھے قاضی فیملی سے تعلقات بڑھنے لگے۔آپ کی پہلی شادی سلطان پورہ لاہور کے میٹ خاندان میں ہوئی۔امر تسر میں قاضی فیملی کی بزرگ خواتین حضور صدا اماں جی یعنی مکرم جناب قاضی محمد اسلم مرحوم اور جناب قامتی منیر احمد مرحوم کی والدہ ماجیدہ میری والدہ کو تبلیغ کا کہتی تھیں والدہ کی عمر چھوٹی تھی اردو پڑھ لکھ لیتی تھیں ایک روز جب مسیح موعود علیہ السلام کا پاک کلام منظوم پڑھتے پڑھتے اس شعر پہ پہنچیں کہ :- ہے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد : تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے : تو حق گھل گیا سچائی کا تیرا پنا کام پورا کر چکا تھا۔والدہ مرحومہ نے فرمایا جس شخص نے یہ شعر کہا ہے کبھی چھوٹا نہیں ہو سکتا۔کیا ہی سچ فرمایا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے ے کچھ شعر و شاعری سے اپنا تعلق نہیں : اس ڈھب سے کوئی سمجھے لیس مدعا یہی ہے جنڈا جانے میری والدہ کی طرح کتنی روحیں حضور کا منظوم کلام پڑھ کر نور احمدیت سے منور ہوئی ہوں گی۔جب والد صاحب گھر تشریف لائے تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کیں اب احمدیت قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتی خود والد صاحب بھی حق کا اثر قبول کر رہے تھے انہوں نے فرمایا یہ دین کا معاملہ ہے تمہاری مرضی چنانچہ پہلے ہماری والدہ صاحبہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعیت کی الحمد للہ علی ذالک اور وہ ہمارے خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہوئیں۔حضرت والد صاحب امرتسر کے احمدی بزرگوں اور والدہ مرحومہ مہر بی بی صاحبہ (زوجه اقول وفات ۱۹۲۳د مد خون بہشتی مقبره قادیان) کے زیہ اثر احمدیت کے قریب آتے گئے والدہ کی بیعت کے بعد مخالفت کا بازار محلہ کو چہ میو ڈار ہاتھی دروازہ امرتسر میں گرم ہو گیا والد صاحب مولوی ثناء اللہ صاحب کے گہرے دوست اور مزاج بھی تھے نماز بھی انہی کی اقتداء میں پڑھا کرتے تھے۔۱۸۹۴ ء میں سبب رمضان المبارک میں سورج اور چاند دونوں کو مقررہ تاریخوں میں گرہن لگا تو والد صاحب مولوی ثناء اللہ صاحب سے اپنی کی مسجد میں صاف صاف کہدیا کہ آپ تو کہا کرتے تھے که اگر مرزا صاحب بچتے ہیں تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق چاند اور سورج کو گرین کیوں نہیں لگا اب تو گر مین نے بھی گواہی دے دی ہے اس لیے ہم حضرت مرنا صاحب کی طرف جاتے