تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 632 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 632

۱۴ حضرت جوبڑی اللہ بخش صاحب مالک اللہ بخش سیم پریس قادیان ) " ر ولادت ۸۸۷اله بیعت ۲۷ مئی ۸۹۸ ء وفات پر اکتوبر ۱۹۵۷ ء م حضرت چو ہری اللہ بخش صاحب کی مختصر سوانح آپ کے صاحبزادے محترم جناب چوہڑی عنایت اللہ صاحب سابق مبلغ انچارج تنزانیہ وامیر جماعتہائے احمدیہ مشرقی افریقہ حال لندن کے قلم سے درج ذیل کیے جاتے ہیں۔آپ سپین وال اُٹھے ( نزد ظفر دال) تحصیل نارووال ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔یہ سارا علاقہ • شہر کہلاتا ہے جس میں را چو توں کی سہری قوم آباد ہے آپ سہری قوم کے بٹھا کر راجپوتوں میں سے تھے۔اور سلہری قوم میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے والے ہیں۔آپ کے والد ماجد کا نام چوہدری فضل دین تھا جو پولیس میں غالبا ہیڈ کانسٹیبل تھے۔والد صاحب مرحوم ابھی بہت چھوٹے تجھے کہ دالدہ انتقال فرما گئیں اور آپ کو پھوپھی نے پالا تھا۔اُن کے والد صاحب چوہدری فضل دین صاحب پولیس کی ملازمت میں عموما لا ہور اور امر تیر رہے اور پہلے ان کی والدہ صاحبہ پھر والد صاحب نے وہیں وفات پائی۔-۔والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں ابھی وہ برس کا تھا کہ مجھے پہ نٹنگ پریس میں کام سیکھنے کے لیے لاہور میں کام پر ڈال دیا گیا۔آٹھ آنے مہینہ کی تنخواہ بھی ملنے لگی۔اُن کے پریس کے اُستاد کا نام بھی اللہ بخش ہی تھا جو لاہور کے نزدیک ساندے کھلاں میں رہتے اور دن کو لاہور میں اپنا پریس چلاتے تھے۔والد صاحب کے اخلاق حسنہ کا ان کے اُستاد اور سارے خاندان پر اتنا گہرا اثر تھا کہ وہ ہمیشہ والد صاحب کی عزت بلکہ ادب کر ہتے اور استاد شاگرد کے مثالی تعلقات تھے ہم قادیان سے سکولوں کی موسم گرما کی یخنوں میں اکثر ساندے بھی جایا کرتے تھے۔بعد میں پریس ہی کی ملازمت کے لیے امرتسر چلے گئے اور وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق مکرم جناب استاد نور احمد صاحب کے زیر اثر آئے اور اُن کے ساتھ کام بھی کیا۔احمدیت کے بارہ میں آپ کو علم استاد نور احمد ات ہے ریکار ڈ نظارت بہشتی مقبرہ ربوہ سے المفضل 11 اکتوبر ، ١٩٥ء کہ حضرت شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض مہند پریس امرتسر