تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 631 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 631

۶۱۶ مالک کالونی ٹکسٹائل ملز اسماعیل آباد ملتان میں مرحوم کی تبلیغ کی وجہ سے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔۱۹۲۲-۲۳ء میں ہجرت کر کے قادیان میں چلے آئے اور تقسیم ملک تک وہیں سکونت پذیر رہے۔مرحوم کا اکثر وقت عبادت میں گزرتا بغیر جماعت کے نماز ادا کر نا کمزوری ایمان سمجھتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالہ ہے میں نے کوشش یہی کی ہے کہ نماز با جماعت ادا کروں اور سوائے بیماری اور سفر کے لیکں نے کبھی بغیر جماعت کے نماز ادا نہیں کی۔حضرت مولوی صاحب کو خاندان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت تھی آپ التزام کے ساتھ بیماری کی حالت میں بھی حضرت۔خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب کی صحت اور درازی عمر کے لیے بالخصوص دعائیں کرتے رہتے۔کمزور ہونے کے باوجود جلسہ سالانہ میں مشمولیت کے لیے قبل از وقت ربوہ پہنچ جاتے اور سال کا زیادہ حصہ یہیں گزارتے اور اُن کی دل کی خواہش تھی کہ دہ ربوہ میں ہی رہیں۔بیماری کی حالت میں کئی بار انہوں نے کہا کہ مجھے ربوہ پہنچا دو لیکن ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ سفر نہ کیا جائے ہے حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کا بیان ہے کہ ور آپ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے خاص دوست تھے۔حضرت مفتی صاحب کے ساتھ لاہور سے قادیان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لیے باقاعدہ جایا کرتے تھے۔یہ دونوں اصحاب بٹالہ سے قادیان تک اکثر پیدل جایا کرتے تھے اس لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت مولوی فضل الہی صاحب مرحوم کو بعض اوقات " صدیق صادق کہ کہ بلایا کرتے تھے۔قادیان میں قصر خلافت کی تعمیر کرانے کا شرف بھی مولوی صاحب موصوف کو ہی حاصل ہو ا تھا کیونکہ حضرت۔۔۔۔۔۔۔خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے اپنی رڈیا میں دیکھا تھا کہ قصر خلافت مولوی فضل الہی صاحب کی زیر نگرانی تعمیر ہو رہا ہے ہے به روز نامه الفضل سیوه ر ستمبر ۱۹۵۷ - ۶ تبوک ۱۳۳۶ مره ع الفضلی یکم ستمبر ، ١٩٥ء مست i !