تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 630
710 کی مثال یوں ہے۔کہ فرض کرو۔لاہور سے ایک جماعت آدمیوں کی میاں میر جانے کے لیے نکلی ہے۔اور باہر جا کر دریافت کر تی ہے۔کہ میاں میر کو سیدھا راستہ کون سا جاتا ہے۔لیکن وہاں مختلف راستے جار ہے ہیں۔اور ہر راستہ پر آدمی کھڑے ہیں۔اور کہتے ہیں۔کہ جس رستے پر سم کھڑے ہیں۔یہ میاں میر کو جاتا ہے۔چنانچہ ان کے کہنے پر مختلف لوگ مختلف رستوں پر چل پڑتے ہیں۔لیکن فرمن کرد - اگر اکثر لوگوں کو چلتے چلتے شام پڑ جائے۔اور وہ میاں میر نہ پہنچیں۔اور نہ انہیں میاں میر کے کوئی آثار کا پتہ لگے۔تودہ لانہ سمجھ لیں گے۔کہ جن راستوں پر ہم چل رہے ہیں۔کہ میاں میں نہیں جاتے۔لیکن وہ لوگ جو میاں میر پہنچ جاتے ہیں۔یا انہیں میاں میر کے آثار نظر آجاتے ہیں۔ان کو یقین آجاتا ہے۔کہ ہم میاں میر کے راستہ پہ ہیں۔یہی حال مختلف مذاہب کا ہے۔مذہب کی غرض جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔خدا تک پہنچتا ہے۔اب اس مجلس میں مختلف مذاہب کے لوگ موجود ہیں۔میں سوال کرتا ہوں۔کہ کیا آپ میں سے کوئی شخص یہ کہ سکتا ہے۔کہ میں نے اپنے مذہب پر چل کہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لی ہے اگر کوئی ایسا ہے۔تو وہ کھڑا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی کھڑا نہ ہوا جیسا کہ اوپر آچکا ہے حضرت مولوی صاحب موصوت ۹۳ - ۱۸۹۲ ء میں حضرت اقدس مسیح موعود ہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے۔آپ ان دنوں اور مینٹل کالج لاہور میں پڑھتے تھے اور جب تک پڑھتے رہے قریباً ہر اتوار قادیان جاتے اور حضرت اقدس مسیح موسلوڈ کی صحبت سے فیضیاب ہوتے جب گھر والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے گھر کے درواز سے آپ کے لیے بند کر دیئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت اور محبت نے ان کے پائے استقلال میں خم نہ آنے دیا اور وہ تمام رشتہ داروں اور لواحقین کو چھوڑ کہ بھیرہ سے سرگودنا آ گئے یہاں آکر انہوں نے سرکاری ٹھیکیداری شروع کردی اور ساتھ ساتھ تبلیغ احمدیت میں مصروف رہے۔چنانچہ آپ کی مخلصانہ کوششوں سے ہی ضلع سرگو دریا میں جماعت احمدیہ قائم ہوگئی۔اور آپ نے 9 بلاک سرگودہا میں بیتِ احمدیہ بنوائی اور اپنے مکان کا ایک حصہ احمدی دوستوں کے قیام و طعام کے لیے وقف کر دیا شیخ محمد اسماعیل صاحب لائل پوری کے صاحب زادے میاں نصیر اے شیخ ل ايضا جلد ۱۲ ۲۵۹ تا ص ۲۶۲ ہے