تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 628 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 628

۶۱۳ تادیان چلا جاتا تھا۔اس لیے بعض دفعہ حضرت مفتی صاحب بندہ کو بھی اپنے تہراہ حضرت صاحب سے حضور لے جایا کرتے تھے اور حضرت اقدس اپنے کمرہ سے براستہ زینہ نیچے تشریف لے جاتے۔اور بسکٹ چائے یا کوئی اور چیز خود اٹھا کہ لاتے۔اور ہمارے آگے رکھ کر مہمان نواز می فرماتے تھے۔اور حضرت مفتی صاحب حضور علیہ السّلام کو ولائتی ڈاک سُنا کہ ان کے جواب لکھا کرتے تھے۔عزمن تمام دن حضرت اقدس کی خدمت گزار کہ عصر کے بعد قادیان سے روانہ ہوئے۔اور اس وقت حضرت مفتی صاحب نے بتلایا۔که حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے قادیان سے جانے کا یکہ کا کرایہ خودا دا فرماتے تھے۔اس کی وجہ یہ بتلائی۔کہ حضورعلیہ السلام فرماتے ہیں۔کہ جس قسم کا اخلاص آپ مجھ سے بوجہ مسیح موعود ہونے کے رکھتے ہیں۔اس اخلاس میں شریک ہو کہ یہ ثواب حاصل کرنے کی خاطر ہم بھی آپ کے سفر خرپ میں کچھ حصہ ڈال دیتے ہیں۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام نے مبلغ دور ہو یہ حضرت مفتی صاحب کو دیئے اور فرمایا۔کہ ہم قادیان کی آمدورفت میں خرچ کریں۔کیونکہ یہ ایک غریب آدمی نے بھیجے کر لکھا ہے کہ کسی ایسی جگہ خرچ فرمانا۔جہاں مجھے بہت ثواب حاصل ہو۔اس لیے آپ اس کو اس سفر میں خرچ کریں گے دیدہ فرماتے ہیں:۔سب سے پہلے میں نے حضرت اقدس کی امرتسر کے مقام پر زیارت کی۔جبکہ حضور دہی سے واپس تشریف لائے تھے۔اور شیخ نور احمد صاحب کے مکان پر بمعہ اہل وعیال فروکش ہوئے تھے۔حضور کے ساتھ حضرت المصلح الموعود بھی تھے۔جن کی عمر اس وقت قریبا چار سال کی تھی۔خدام میں سے ایک محمد یوسف خاں تھے۔ایک میر محمد سعید صاحب وغیرہ۔حضرت صاحب کے لیے شیخ نوراحمد صاحب کے مطبع کے برآمدہ میں صفیں سمجھائی گئی تھیں۔وہاں حضور تشریف فرما ہوا کرتے تھے میں حسیب حاضر ہوا۔تو شہر کے بعض اور معززین بھی موجود تھے۔ایک شخص محمد یوسف صاحب جو ضلعدار تھے۔وہ بھی موجود تھے۔انہوں نے اپنی ایک خواب بیان کی مخفی۔کہ آسمان سے ایک نور کی شعاع نازل ہوئی ہے۔جو قادیان کی طرف اتری ہے۔یہ یاد نہیں۔کہ حضور نے اس کے بارے میں کچھ سے رجسٹر روایات ۲ صفحه ۳۲۲ تا ۲۲۷